
دوستو، اس ویڈیو میں ہم بات کریں گے کینڈل اسٹکس کے بارے میں، اور اگلی ویڈیو میں ہم بات کریں گے الفین بار کینڈل اسٹک پیٹرنز پر۔ جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں، جو گرین بارز آپ کو نظر آ رہی ہیں، نیچے والا حصہ اسے اوپن کہتے ہیں اور اوپر والا حصہ اسے کلوز کہتے ہیں۔ اور جو اوپر آپ شیڈوز دیکھ رہے ہیں، یہاں میں کرسر رکھ رہا ہوں، اسے کہتے ہیں شیڈوز۔ ٹھیک ہے؟ تو یہ پوری بار کہلاتی ہے، جسے ہم رئیل باڈی کہتے ہیں، اور اس بار کو رئیل باڈی کہا جاتا ہے۔ اوپر اور نیچے جو نکلا ہوا حصہ ہے، اسے ہم شیڈو کہتے ہیں۔ تو ایسا ہوتا ہے جب مارکیٹ...
ابھی ہم بی ٹی سی یو ایس ڈی ٹی کا چارٹ دن کے حساب سے دیکھ رہے ہیں، یعنی جب دن شروع ہوا۔ نیچے آپ دیکھ سکتے ہیں کہ یہ تاریخ ہے جولائی کی، جس دن یہ اوپن ہوا۔ تو اس دن بی ٹی سی کی قیمت اوپن پر تھا اور خریدنے کا دباؤ بڑھتا گیا، یعنی خریدار بیچنے والوں پر دباؤ ڈال کر قابو پاتے رہے۔ یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہا یہاں تک کہ جب اس دن کا 24 گھنٹے کا کلوز ہوا، تو قیمت جیسا کہ آپ دائیں طرف دیکھ سکتے ہیں، میں یہاں اس کو ہائی لائٹ کرتا ہوں، دائیں جانب قیمت اوپر آ رہی ہے۔
6756 पर ये دن کھلا تھا جو 6612 سے تھا، آپ رائٹ ہینڈ پر یہاں دیکھ سکتے ہیں، اوکے؟ اور اس کے بعد خریدنے کا دباؤ بڑھتا گیا، بڑھتا گیا، بڑھتا گیا، اور یہ دن 6756 پر بند ہوا۔ اور جو شیڈو آپ اوپر دیکھ رہے ہیں، میں تھوڑا بار کو دکھاتا ہوں، دیکھیں یہ شیڈو جو آپ دیکھ رہے ہیں اس کا مطلب ہے کہ جب دن کھلا اور خریدنے کا دباؤ بڑھتا گیا تو بیچنے والوں کا دباؤ بھی بڑھتا ہے۔ تو نیچے جو آپ یہ ایریا دیکھ رہے ہیں، یہ والا رائٹ ہینڈ ہے، یہاں میرا کرسر ہے، اس کے رائٹ ہینڈ والی گرین بار دیکھیں، آپ پورا ایک شیڈو دیکھ رہے ہیں، یہ پورا شیڈو ہے۔ تو ایسا ہوا۔
کہ بائنگ کا پریشر بڑھتا گیا، اس کے بعد سیلر کا پریشر بھی بڑھتا گیا، بڑھتا گیا، بڑھتا گیا، اور یہاں پر سیلر کا پریشر دوبارہ ٹوٹا۔ پھر بائر کا پریشر دوبارہ بڑھا، بڑھتا گیا، اور یہی پر پوری کہانی ختم ہوئی۔ اس کے بعد اگلے دن کی شروعات ہوئی، جو گرین کینڈلز ہوتی ہیں، اور یہ بتاتی ہیں کہ اس دن پریشر بہت زیادہ تھا۔ اور جو بھی ٹائم اسپین آپ نے یہاں رکھا ہے، ہم نے اس کینڈل کو ڈے کے حساب سے لیا ہے، آپ ایک گھنٹہ یا پندرہ منٹ بھی لے سکتے ہیں۔ اور جو ریڈ کینڈلز ہوتی ہیں، وہ بتاتی ہیں کہ سیلر کا پریشر بائرز کے اوپر تھا۔
زیادہ تر جو گرین کینڈلز ہوتی ہیں یا وائٹ کینڈلز ہوتی ہیں، اس میں یہ ایریا اوپن کہلاتا ہے، یہ کلوز کہلاتا ہے، یہ لو کہلاتا ہے اور یہ ہائی کہلاتا ہے۔ اسی طرح جو ریڈ کینڈلز ہوتی ہیں یا بلیک کینڈلز ہوتی ہیں، اس میں اوپر والا ایریا اوپن کہلاتا ہے کیونکہ ریڈ کینڈلز یہاں سے اوپن ہوئی تھیں۔ اس کے بعد چونکہ سیلرز کا پریشر بڑھتا گیا، تو ریٹس یہاں نیچے آ کر کلوز ہوئے۔ یعنی کہ بی ٹی سی اس دن اوپننگ ریٹ اس کا تھا 6752، جیسا کہ آپ بالکل سیدھے ہاتھ پہ دیکھ سکتے ہیں۔ یہاں دیکھیں، یہ بلیک میں آپ کو دکھا رہا ہے، اور جب آپ نیچے آتے ہیں۔
تو پتہ چلتا ہے کہ یہ اسی دن یعنی 8 جولائی 201 کا بی ٹی سی اور یو ایس ڈی ٹی کی مارکیٹ میں کلوزنگ ریٹ تھا۔
دوستو، اس ویڈیو میں ہم بات کریں گے الف بار کینڈل اسٹک پیٹرن کی۔ جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں، بار کو بھی اسی چیز کو کہتے ہیں اور کینڈل اسٹک کو بھی۔ یہ جو سب سے آخری والی ہے، اسے مثال کے طور پر لے لو، بار بھی یہی ہے اور کینڈل اسٹک بھی یہی ہے۔ اب ہم اس میں بات کریں گے کہ الف بار کیا ہوتی ہے اور کینڈل اسٹک کا ایسا کون سا پیٹرن ہوتا ہے جس میں ہم الف بار دیکھ کر یہ سمجھ سکیں کہ اس کا پیٹرن کیا ہوگا، یعنی مارکیٹ یہاں سے بلش ہوگی یا بیریش۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ جیسے انسانی نفسیات میں کچھ رویے کے پیٹرن ہوتے ہیں۔
جب آپ اپنے دوستوں سے ملتے ہیں تو آپ کو پتہ ہوتا ہے کہ کسی خاص عمل کا اس پر کیا اثر پڑے گا، کیا وہ فوراً غصے میں آ جائے گا یا نہیں۔ اسی طرح، آپ اپنے قریبی رشتہ داروں اور نواہ کے لوگوں کو جانتے ہوں گے جن کا ایک خاص قسم کا رویہ ہوتا ہے اور ایک زبردست صلاحیت ہوتی ہے کہ ہم کسی شخص کے رویے کے انداز کو سمجھ سکیں، جس کی وجہ سے ہمیں لوگوں کو پہچاننے میں آسانی ہوتی ہے۔ بالکل یہی سائیکولوجی کرپٹو کرنسی کی مارکیٹ یا فاریکس کی مارکیٹ میں بھی کام آتی ہے کیونکہ...
یہ جو کینڈل آپ دیکھ رہے ہیں اس کے پیچھے بہرحال مشینیں اگر ہیں بھی تو ان مشینوں کے پیچھے بھی لوگ ہی ہوتے ہیں، اور اگر مشینیں نہیں ہیں تو زیادہ تر ڈے ٹریڈرز یعنی جو لوگ اس پر کام کرتے ہیں، قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا سبب بننے والے بھی اصل میں انسان ہی ہوتے ہیں۔ ان کی نفسیات کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ الفین کا مطلب ہوتا ہے کسی چیز کو ہڑپ کر جانا یا پوری طرح نگل جانا۔ یہاں آپ دیکھیں گے کہ کچھ خاص قسم کے پیٹرن ہوتے ہیں، ان پر غور کریں کہ یہ ایک ایسی کینڈل ہے جس نے اپنی پچھلی کینڈل کو مکمل طور پر...
پورا ایل ایف کر لیا ہے یعنی کہ یہ ریڈ والی جیسا کہ ہم نے پچھلے ویڈیو میں بات کی تھی، اس ریڈ والی کینڈل کا یہ اوپن ہے اور یہ کلوز ہے۔ اب جب اگلا دن آیا یعنی 2 جولائی 2018، جیسا کہ آپ یہاں نیچے تاریخ دیکھ سکتے ہیں، جب میں اس کو ہائیپو کرونگا تو نیچے آپ کو تاریخ دکھے گی 2 جولائی 2018۔ اس دن اس کا اوپن تھا اور یہ اس کا کلوز تھا۔ 2 جولائی کو جب یہ اوپن ہوا تو یہ پورا اوپر گیا اور یہاں آ کر اس نے پچھلی کینڈل کو ایل ایف کر لیا، یعنی دوسرے الفاظ میں اس کو ہڑپ کر لیا یا مکمل طور پر۔
کیپچر کر لیا اور مارکیٹ اوپر چلی گئی، یعنی اس گرین والی کینڈل میں بُلش یعنی خریداروں کا دباؤ بہت زیادہ ہے۔ تو جب آپ ایسی الفن کینڈل دیکھتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ یہ ایک خاص قسم کا پیٹرن ہے، یعنی اس کے بعد مارکیٹ اپ ٹرینڈ میں جائے گی۔ مثال کے طور پر، 2 جولائی 2018 کو آپ نے دیکھا کہ یہاں ایک الفن بار بن گئی تھی، تو آنے والے وقت میں آپ اسے یہاں پر خرید سکتے ہیں۔ اسی دن آپ دیکھ رہے ہیں کہ آپ نے پرچیز کی، یہاں پر بی ٹی سی۔ ہم اس وقت بی ٹی سی یو ایس ڈی ٹی کی ڈی مارکیٹ میں ہیں اور ہم یہ چارٹ دیکھ رہے ہیں۔
tradingview.com پر جب آپ آئے تو دیکھا کہ مارکیٹ کو اوپر جانا تھا، لیکن یہ والی کینڈل نیچے جا رہی ہے۔ لیکن اگر آپ تھوڑا دھیان دیں اور یہاں ایک لائن بنا کر چیک کریں، تو اصل میں مارکیٹ اس کے بعد اوپر گئی۔ یہاں سے بائے کرنے کے بعد آپ کو کچھ فیصد کا فائدہ ہوا۔ یعنی آپ یہاں سے خریداری کر کے بیریش مارکیٹ میں بلیش مارکیٹ میں سیل کر سکتے تھے۔ یہ ایک خاص قسم کا پیٹرن ہوتا ہے، جیسے کہ میں نے پہلے کہا تھا کہ لوگوں کے کچھ رویے ہوتے ہیں۔
مارکیٹ کے بھی کچھ خاص بیہیوریئل پیٹرنز ہوتے ہیں جنھیں سمجھنا بہت ضروری ہے۔ تو اس بار جو بار ہے اسے ہم الفن بار کہتے ہیں اور اس پورے کانسپٹ کو الفن بار کینڈلنگ پیٹرن کہتے ہیں۔ اب میں اسے تھوڑا سا مختصر کرتا ہوں، اسی چارٹ میں BTC USDT کے چارٹ میں مزید جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ کیا یہاں اس کے علاوہ بھی کچھ الفن پیٹرنز آئے ہیں جو آنے والی مارکیٹ میں بُلش یا بیئرش سگنلز دے سکتے ہیں۔ تو اسے مختصر کر کے دیکھتے ہیں، یہاں سے چارٹ کو الٹا کرتے ہیں، اور یہاں سے دیکھیں، تھوڑا بڑا۔
اگر آپ یہاں دیکھیں تو جی ہاں، یہ ایک آپ کو ایلفن بار نظر آ رہا ہے جو کہ بیریش سگنل دے رہا ہے، بُلِش سگنل نہیں دے رہا۔ معذرت، یہ این ایف بار نہیں ہے، یہ والا ایل ایف بار ہے جس کے بارے میں ہم نے پہلے بات کی ہے۔ دوسرا ایلفن بار دیکھیں، یہ جو دکھ رہا ہے وہ ایلفن بار ہوتا ہے جو اپنی پچھلی والی پوری کینڈل کو کیپچر کر لیتا ہے یا اسے ہڑپ کر لیتا ہے یا اس سے بڑا ہوتا ہے۔ تو دیکھیں، یہ نیچے 28 جون کی یہ والی کینڈل ہے، یہ یہاں اوپن ہوئی، یہاں کلوز ہوئی، اور یہ 27 کی کینڈل ہے جو کہ بُلِش ہے اور یہاں اوپن ہوئی، اور اس نے پوری طرح اسے کیپچر کر لیا ہے۔
تو جب یہ یہاں آ کے کلوز ہوئی، جیسے ہی یہ 29 جون کو کلوز ہوئی ایک بلش کینڈل بنی، تو ہمیں سمجھ لینا چاہیے کہ مارکیٹ نے تھوڑا سا اپ ٹرینڈ پکڑنا شروع کر دیا ہے۔ اب دیکھیں اگر آپ اس پوائنٹ پر اسے بائے کرتے، تو آپ کو پورا بلش مارکیٹ یہاں نظر آ رہا ہے۔ اور اس سے پہلے بھی ہم نے ایک بلش مارکیٹ اسی علاقے میں دیکھی ہے۔ اسی طرح آپ بیئرش مارکیٹ کا بھی اندازہ لگا سکتے ہیں، اسی الفن پیٹرن کے ذریعے، اور یہ ہمیں بیئرش نظر آ رہی ہے۔
مارکیٹ یہاں دیکھیں، یہ اوپن ہوئی، یہاں پر، اور کلوز ہوئی 25 جون 2018 کو۔ پھر 26 جون کو کیا ہوا؟ مارکیٹ یہاں اوپن ہوئی اور اس نے پچھلی والی پوری کینڈل کو ایک طرح سے ہڑپ کر لیا یا کیپچر کر لیا۔ یعنی یہ والی کینڈل پچھلی کینڈل سے تھوڑی سی بڑی ہو گئی۔ تو اب ہمیں پتہ چل جائے گا کہ مارکیٹ میں تھوڑا سا بیریش ٹرینڈ آئے گا۔ اور یہاں آپ دیکھ رہے ہیں کہ اگر آپ یہاں پر پرچیز کرتے تو مارکیٹ یہاں سے بیریش ٹرینڈ کے اوپر سے نیچے گئی۔ اسی طرح یہ ایک اور مثال آپ کے سامنے آ گئی کہ یہ اصل میں الپھن بار ہے۔
اس نے اپنی پچھلی الی بار کو ہڑپ کر لیا، تو یہاں دیکھیں مارکیٹ میں تھوڑا سا اپ ٹرینڈ آیا ہے، لیکن میں آپ کو یہ مشورہ نہیں دوں گا کہ صرف اس کینڈل اسٹک کے بیہیویئرل پیٹرن کو دیکھ کر آپ کوئی ٹریڈنگ کریں۔ کم از کم دو سے تین اشارے تو ہونے چاہئیں، چاہے وہ ٹرینڈ لائن کے ذریعے ہوں، چاہے موونگ ایوریجز کے ذریعے ہوں، یا ریزسٹنس لائن بنا کر ہوں۔ لیکن دو سے تین ایسے اشارے ہونے چاہئیں جن کی بنیاد پر آپ اعتماد کے ساتھ فیصلہ کر سکیں کہ مارکیٹ بیریش جائے گی، تو آپ کو کیا کرنا ہے، اور اگر...
اگر آپ جانا چاہتے ہیں تو آپ کو کیا کرنا ہے، شکریہ۔
تو آج ایک نئی ویڈیو کے ساتھ ہم پھر آپ کے ساتھ ہیں، اور آج ہم بات کریں گے ڈوجی کینڈل، جو کہ ایک کینڈل اسٹک پیٹرن ہے۔ اس سے پہلے کی ویڈیوز میں ہم نے ایلفن کینڈل اسٹک پیٹرن اور کینڈل اسٹک کے اوپن، ہائی، لو اور کلوز کو ڈٹیکٹ کرنے کے بارے میں بات کی تھی۔ ہم پھر سے BTC/USDT مارکیٹ پر ہیں اور یہ ڈی چارٹ ہے، اور ہم نے اسے اس کے ڈیفالٹ ویو پر لے لیا ہے۔ آج ہم بات کریں گے ڈوجی کینڈل اسٹک پیٹرن پر، تو اسے تھوڑا زوم کرتے ہیں اور پھر آپ کو بتاتے ہیں کہ ڈوجی کیا ہوتا ہے، ڈوجی پیٹرن کیسی ہوتی ہے، یعنی یہ ایک ایسا سگنل ہوتا ہے جو کچھ ایسا کہانی بیان کرتا ہے۔
جو آپ دیکھ رہے ہیں، جس میں ہم نے پہلے ویڈیو میں بتایا تھا کہ گرین والی کینڈلز یا وائٹ والی کینڈلز میں نیچے والا حصہ اوپن کہلاتا ہے، اوپر والا کلوز کہلاتا ہے، سب سے اوپر کا حصہ ہائی کہلاتا ہے اور سب سے نیچے کا لو کہلاتا ہے۔ اور بلیک یا ریڈ کینڈلز میں اوپر والا حصہ اوپن ہوتا ہے، نیچے والا حصہ کلوز ہوتا ہے۔ گرین یا وائٹ کینڈل کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ یہ کینڈل ہمیں بتاتی ہے کہ مارکیٹ میں بائنگ پریشر سیلرز کے پریشر سے زیادہ ہے، یعنی ڈیمانڈ سپلائی سے زیادہ ہے، جس بھی کمڈیٹی کی ہم بات کر رہے ہیں۔
چاہے وہ تیل ہو، گیس ہو، فاریکس مارکیٹ ہو، اسٹاکس کی مارکیٹ ہو یا کرپٹو مارکیٹ ہو، ابھی فی الحال ہم بی ٹی سی یو ایس ڈی ٹی کرپٹو مارکیٹ کی بات کر رہے ہیں۔ اسی طرح یہ ریڈ والی کینڈل یا بلیک والی کینڈل ہمیں بتاتی ہے کہ سیلرز کا پریشر بائرز کے پریشر سے زیادہ ہے، یعنی سیلرز بائرز پر غالب آ گئے ہیں یا سپلائی ڈیمانڈ پر غالب ہو گئی ہے، جس کی وجہ سے قیمت کم ہو گئی یا نیچے آ گئی۔ تو ہم ابھی قیمت دیکھ رہے ہیں، وولیوم کی بات نہیں ہو رہی۔ تو یہ ہے ڈوجی اس کینڈل اسٹک کا پیٹرن۔
یہاں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ اپر اور لوئر شیڈو بہت زیادہ ہوتا ہے اور اوپن اور کلوز کے جو پرائس ہوتے ہیں وہ تقریباً یا تو ایک جیسے ہوتے ہیں، جیسے آپ یہاں دیکھ رہے ہیں، یا پھر قریب قریب ایک دوسرے کے برابر ہوتے ہیں۔ اگر ہم کنزیومر بیہیویئر یا پھر ٹریڈرز کے بیہیویئر اور ان کی سائیکولوجی دیکھیں تو اس پر ہم بات کرتے ہیں کہ دیکھیں یہاں پچھلی دو کینڈلز میں، یہاں اوپن ہوا اور بائنگ پریشر بہت زیادہ تھا، اس لیے پرائس بڑھ رہا ہے۔
یہ اوپر تک گیا، یہاں پر بیچنے والے خریداروں پر غالب آ گئے، تو قیمت مزید نیچے آگئی اور یہاں آ کر ہماری بار بند ہو گئی۔ اگلے دن قیمت نے یہاں اوپن کیا اور یہاں بند ہوئی۔ اس کے اگلے دن ایک ڈوجی کینڈل بنی، جس میں اوپن اور یہ آئی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس دن مارکیٹ اوپن ہوئی، نیچے تاریخ آپ کو دکھ رہی ہے، 20 جون 2018 کو، اس دن مارکیٹ کی قیمت اوپن ہوئی اور خریداروں کا دباؤ بیچنے والوں پر تھوڑا سا زیادہ تھا۔ اس کے بعد بیچنے والوں کا دباؤ بڑھ گیا، وہ خریداروں پر غالب آ گئے اور انہوں نے قیمت کو مزید نیچے گرانا شروع کر دیا۔
مزید نیچے گیا، مزید نیچے گیا، دوبارہ سے بائرز نے دھیما دھیما کنٹرول سنبھالنا شروع کیا، بیچنے والوں پر حکمرانی شروع کی، لیکن بائرز بیچنے والوں پر زیادہ حاوی نہ ہو سکے۔ اسی وجہ سے اوپننگ اور کلوزنگ کی قیمتوں میں زیادہ فرق نہیں تھا۔ جہاں بھی آپ کو کینڈل اسٹک دکھیں گی، وہاں آپ کو ایک طرح کا فیصلہ نہ کرنا آسان ماحول دکھائی دے گا، یعنی یہ سمجھنا مشکل ہوتا ہے کہ مارکیٹ آگے کہاں جائے گی۔ لیکن اگر یہ کینڈل اسٹک کسی ڈاؤن ٹرینڈ کے کونے پر یا ڈاؤن ٹرینڈ کے بعد بنے تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ مارکیٹ میں تھوڑا سا اپ ٹرینڈ آنا ہے، اور اگر یہی ڈوجی...
اگر کینڈل اسٹک اپ ٹرینڈ کے آخر میں بنتی ہے تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ مارکیٹ میں اب ڈاؤن ٹرینڈ آنے والا ہے، لیکن جیسا کہ ہم نے اپنی پہلی ویڈیو میں بتایا تھا کہ صرف کینڈل اسٹک کے پیٹرن کی بنیاد پر آپ ٹریڈ نہیں کر سکتے۔ اس کے لیے آپ کو مزید ٹولز یا انڈیکیٹرز کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ آپ کوئی غلط سرمایہ کاری نہ کر دیں۔ تو جو کچھ ابھی آپ کو بتایا گیا ہے، اس کی دو بہترین مثالیں ہمارے پاس موجود ہیں۔ دیکھیں، یہ ایک طرح کا ڈاؤن پیٹرن ہے جو یہاں آیا اور یہاں تک گیا، یعنی قیمت یہاں سے یہاں تک نیچے گئی، یہ ڈاؤن ٹرینڈ کے آخر کی نشاندہی کرتا ہے۔
دوژی دیکھنا بہت آسان ہے کیونکہ اس میں لمبے سائے ہوتے ہیں، یہ لمبا سایہ اوپر کا ہے اور یہ نیچے کا۔ اس کے اوپننگ اور کلوزنگ پرائس میں بہت کم فرق ہوتا ہے۔ جب نیچے کی ٹرینڈ کے آخر میں یہ دوژی بنتی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ آنے والی مارکیٹ اب ٹرینڈ میں جا سکتی ہے۔ اس سال کے لحاظ سے یہ دوژی کنفرم ہوئی ہے، نیچے تاریخ دیکھ رہے ہیں 24 جون کو۔ تو اگلے 25 جون کی اوپننگ پر اگر آپ نے ٹریڈ کھولنی ہے، تو دوسرے اشاروں کے ساتھ ٹریڈ کھولیں اور آپ توقع کر سکتے ہیں۔
ممکن ہے کہ مارکیٹ اوپر جائے اور یہاں آپ دیکھ بھی رہے ہیں کہ مارکیٹ واقعی یہاں سے اوپر گئی ہے، اور یہ بھی بتاتے ہیں کہ کتنے فیصد اوپر گئی۔ مثال کے طور پر اگر آپ نے یہاں بائنگ آرڈر دیا تھا تو یہ مارکیٹ آپ کے اوپر گئی ہے، تقریباً 8 فیصد ایک ہفتے کے اندر۔ اور مجھے لگتا ہے کہ یہ ایک بہت بڑی ٹریڈ ہوتی ہے، ایک ہفتے میں 8 فیصد اوپر جانا۔ اسی طرح ہم آپ کو ایک اور مثال دیتے ہیں کہ جب اپ ٹرینڈ کے بعد آپ کے پاس ایک ڈوجی کینڈل آتی ہے تو اس کے بعد ڈاؤن ٹرینڈ آتا ہے، دوبارہ یہ دیکھ لیں۔
یہاں سے مارکیٹ اپ ٹرینڈ پر جا رہی تھی، آپ نے دیکھا کہ مارکیٹ کے آخر میں ایک ڈوجی کینڈل آئی۔ اس ڈوجی کینڈل نے بتایا کہ بائیرز کا پریشر سیلرز کے مقابلے میں زیادہ تھا، لیکن اس کینڈل میں سیلرز کا پریشر کم ہوتا ہوا یہاں تک پہنچ گیا۔ پھر سیلرز نے دوبارہ اتنا پریشر ڈالا کہ پرائس نیچے آتی گئی اور یہاں تک پہنچ گئی۔ اس کے بعد ممکن ہے کہ مارکیٹ میں ڈاؤن ٹرینڈ آیا، جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں کہ واقعی مارکیٹ میں ڈاؤن ٹرینڈ آیا اور یہاں آ کر یہ ڈاؤن ٹرینڈ ختم ہو گیا۔ اسی طرح آپ اپنی پوزیشن بنا سکتے ہیں۔
اس کینڈل میں بھی اس کے مزید مثالیں دیکھ سکتے ہیں۔ یہ ایک پرفیکٹ مثال ہے ڈوجی کی، جس میں اوپننگ پرائس اور کلوزنگ پرائس تقریباً برابر ہیں۔ اگر آپ کو یہاں سے اوپننگ یا کلوزنگ کا پتا نہیں چل رہا تو آپ اس پر کلک کریں گے اور اوپر جا کر یہاں دیکھیں گے کہ 'او' کا مطلب ہے اوپن، ہائی، لو، کلوز۔ تو اوپننگ پرائس اور کلوزنگ پرائس تقریباً برابر ہوں گے۔ میں کلک کرتا ہوں تو دیکھیں اوپننگ پرائس 734 اور کلوزنگ 7338 تقریباً ایک جیسے ہیں، چار ڈالر کا فرق ہے۔ تو یہاں آپ دیکھیں گے کہ دوبارہ وہی بات ہوئی جو آپ سے پہلے کہی گئی تھی کہ یہ پورا ڈاؤن ٹرینڈ ہے۔
جو یہاں سے شروع ہوا تھا، وہ آ رہا ہے۔ دیکھو، یہاں سے شروع ہوا ڈاؤن ٹرینڈ آیا، اور اس کے فوراً بعد اس بڑے ڈاؤن ٹرینڈ کے بعد تم نے دیکھا کہ ایک ڈوجی کینڈل بن گئی۔ اس ڈوجی کینڈل کا کیا مطلب ہے؟ دوبارہ اس کے پیچھے جو یوزرز کی سائیکولوجی ہے، ٹریڈرز کی جو سائیکولوجی ہے، اسے سمجھنے کی کوشش کرو۔ کیونکہ تمہیں پہلے بتایا جا چکا ہے کہ یہ چارٹ اصل میں انسانی ذہنیت کو ایک طرح سے ظاہر کرتے ہیں، یا ٹریڈرز کی ذہنیت کو ایک طرح سے دکھاتے ہیں۔ اسی لیے اسے ٹیکنیکل انیلیسس کہتے ہیں، فنانشل انیلیسس نہیں۔
سینٹیمنٹل اینالیسس نہ کہیں تو یہاں دیکھیں کہ اوپننگ پرائس شروع ہوئی، بائر نے مارکیٹ پر پریشر ڈالنا شروع کیا، سیلر بائر پر قابو پانے لگے اور انہوں نے پرائس کو مزید نیچے دھکیلنا شروع کیا۔ ان دونوں کی جنگ کے دوران اوپننگ پرائس اور کلوزنگ پرائس تقریباً ایک جیسے ہو گئے۔ اس کے بعد مارکیٹ میں ایک غیر فیصلہ کن رویہ آتا ہے، یعنی شاید مارکیٹ نیچے جائے یا اوپر۔ لیکن چونکہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ یہ ڈوجی کینڈل ہماری ڈاؤن ٹرینڈ کے بعد بنی ہے، تو ہم توقع کر سکتے ہیں کہ اس کے بعد اپ ٹرینڈ آئے گا۔ اور آپ...
دیکھ رہے ہیں کہ یہاں تھوڑا سا اپڈیٹ موجود ہے ایپل کے لیے، آپ نے ٹریڈ یہاں سے اوپن کی تھی اور دیکھیں یہاں اپڈیٹ آ رہا ہے، ٹھیک ہے؟ اور یہ تقریباً ہے جناب، اگر فور ایگزامپل میں آپ سے کہوں کہ آپ نے اس ڈوجی کینڈل کے فوراً بعد ٹریڈ اوپن کی تھی تو یہ آپ کو تقریباً 4 پر لے جائے گا، چار سے پانچ دن کے اندر۔ تو میں یقین رکھتا ہوں کہ یہ ڈوجی کینڈل اور جو پہلے الیفن کینڈلسٹک پیٹرن پر ہم نے بات کی تھی، ان سے آپ کو بہت سی چیزیں کلیر ہو گئی ہوں گی۔ یہاں بھی آپ کو بہت سے الیفن کینڈلسٹک پیٹرن نظر آ رہے ہوں گے جن پر ہم نے بات کی تھی، کہ دیکھیں یہ پورا...
ایل فنگ کینڈل اسٹک پیٹرن ہوتا ہے جس میں یہ بار اپنی پچھلی بار کو مکمل طور پر اللف کر لیتا ہے، یعنی اسے ہڑپ کر لیتا ہے یا اس پر غالب آ جاتا ہے یا مکمل طور پر اسے کھا لیتا ہے۔ دیکھیں مارکیٹ میں تھوڑا سا اپ ٹریڈ موجود ہے، اسی طرح اس کی دوسری مثال یہ ہے کہ اس گرین بار نے اپنی پچھلی بار کو اللف کر لیا ہے، یعنی یہ گرین بار پچھلی بار سے واقعی بڑی ہے۔ تو اب دیکھیں مارکیٹ میں یہ ایک اپ ٹریڈ ہے، اسی طرح اس کی بہت سی مثالیں آپ دیکھ سکتے ہیں۔
آپ اس میں بھی مثالیں تلاش کر سکتے ہیں، تو میرا خیال ہے کہ صرف یہ ویڈیو سن لینا یا دیکھ لینا آپ لوگوں کے لیے کافی نہیں ہوگا۔ بلکہ کوئی چارٹ کھولیں اور اس میں سے ایک یا دو مثالیں سنیپ شاٹ کی شکل میں یا ویڈیو کی شکل میں بنا کر میڈیا یا سوشل میڈیا پر شیئر کریں، یا کمنٹ کریں کہ آپ نے کیا کیا ہے۔ اس طرح مجھے آپ سے اور آپ لوگوں سے بہت کچھ سیکھنے کو ملے گا۔ شکریہ۔
دوستو، اس ویڈیو میں ہم بات کریں گے ڈریگن فلائی ٹوز کینڈل، کینڈل اسٹک پیٹرن پر، اور آسانی کے لیے ہم بار بار کینڈل اسٹک کا ذکر نہیں کریں گے بلکہ اسے ڈریگن فلائی ڈوجی پیٹرن کہیں گے۔ اس کی مثالیں ملنا بہت مشکل ہوتا ہے، اور ابھی بھی میں نے بہت سارے چارٹس تبدیل کیے ہیں۔ یہ ڈی کے چارٹ تھا، اس سے میں ون آور پر آیا، پھر ون آور سے پانچ منٹ پر آیا۔ تو بڑی مشکل سے اس کی مثال ملی ہے کیونکہ یہ والی کینڈل بہت کم ملتی ہے۔ جو آپ اوپر دیکھ رہے ہیں، اس کا ہیڈ اوپر اور نیچے ایک لمبی دم ہے۔
ڈریگن فلائی ڈوجی کینڈل کہتے ہیں اور پچھلے ویڈیو میں ہم نے ڈوجی کینڈل کیا ہوتی ہے اور ڈوجی کینڈل کی بات کی تھی جس میں اوپن پرائس اور کلوز پرائس تقریباً ایک جیسے ہوتے ہیں۔ یہاں پر یہ بالکل ڈوجی کی مثال نہیں ہے، یہ والی یا وہ والی نہیں، لیکن کم از کم اوپن اور کلوز پرائس ایک دوسرے کے قریب ضرور ہیں۔ یہ سب ڈوجی کینڈل ہیں جو آپ یہاں دیکھ رہے ہیں۔ انہی ڈوجی کینڈلز کا ایک خاص ورژن ہے جو ہم یہاں بات کرنے جا رہے ہیں، یعنی ڈریگن فلائی ڈوجی پیٹرن۔ تو میں نے اس پر تحقیق کرنے کی کوشش کی۔
کہ اسے ڈریگن فلائی کیوں کہا جاتا ہے تو مجھے کچھ تصاویر ملیں ہیں، وکیپیڈیا کہتا ہے کہ یہ ایک کیڑا ہے جس کا تعلق آرڈر اور ڈوٹا سے ہے۔ اگر آپ اسے غور سے دیکھیں تو اس کی شکل بالکل اس سے ملتی جلتی ہے، اس کے پروں پر بھی ہے اور یہ ایک قسم کی ڈریگن فلائی ہے، شاید اسی وجہ سے اسے ڈریگن فلائی پیٹرن کہا جاتا ہے۔ ہم اسے بند کرتے ہیں اور اب اس پر دھیان دیں، دیکھیں یہ ایک ایسا پیٹرن ہے جو آپ کو یہ بتا رہا ہے اگر آپ مارکیٹ کی نفسیات اور صارفین کی نفسیات پر غور کریں۔
اگر ہم ڈے ریڈرز کی سائیکالوجی پر غور کریں تو دیکھیں یہاں مارکیٹ کھلی، مارکیٹ کھلی اور مارکیٹ نے تھوڑا سا دھکا دیا یعنی کہ خریداروں نے دھکا دیا لیکن بیچنے والوں نے سپلائی جاری رکھی جس کی وجہ سے خریداروں کا دھکا بیچنے والوں پر غالب نہ آ سکا یا ڈیمانڈ کا دھکا سپلائی پر غالب نہ ہو سکا اور کمودٹی کے دام بڑھ نہ سکے۔ بعد میں کچھ ایسا ہوا کہ بیچنے والوں نے بہت زیادہ کوشش کی دام کم کرنے کی اور وہ اس میں کافی حد تک کامیاب بھی ہوئے، اور اسی پانچ منٹ کے اندر اندر خریدار دوبارہ بیچنے والوں پر غالب آ گئے اور یہ دونوں کی جنگ یہاں پر شروع ہوئی۔
پچھلی کینڈلز کے اوپر اگر ہم غور کریں تو دیکھیں گے کہ ایک طرح کا اپ ٹرینڈ آ رہا ہے۔ ڈریگن فلائی کینڈل اسٹک جو ہوتی ہے، اصل میں اگر کسی اپ ٹرینڈ کے بعد آئے تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ آگے ڈاؤن ٹرینڈ متوقع ہے۔ اگر آپ مارکیٹ کو غور سے دیکھیں تو اس ڈاؤن ٹرینڈ کے بعد کہیں بھی اپ ٹرینڈ نہیں ہے۔ یہ سارا اپ ٹرینڈ یہاں پر آ رہا ہے اور اس اپ ٹرینڈ کے بعد جب آپ نے ڈریگن فلائی کینڈل دیکھی تو آپ نے اگلی کینڈل کے اوپر یہ فرض کر لیا کہ مارکیٹ نیچے جانے والی ہے اور آپ یہاں سے...
دیکھیں کہ اگلی والی اس کینڈل سے مارکیٹ کافی حد تک یہاں نیچے گئی ہے۔ تو پھر جیسے پچھلی ویڈیو میں بھی بتایا جا چکا ہے کہ صرف کینڈل اسٹک کے جو پیٹرنز ہوتے ہیں، جن پر ہم پہلے بات کر چکے ہیں، جیسے الفین پیٹرن، ڈوجی پیٹرن یا یہ والا جس پر ہم بات کر رہے ہیں، ڈریگن فلائی ڈوجی، صرف انہی کی بنیاد پر ہم کوئی ٹریڈ نہیں لیتے۔ بلکہ ان کے ساتھ ساتھ ہم ٹولز اور انڈیکیٹرز استعمال کرتے ہیں، جن کی مدد سے آپ کوئی ٹریڈ کرتے ہیں۔ اچھا، اسی حوالے سے ایک بات اور میں آپ کو بتا دوں کہ جتنی بھی چیزیں آپ کو بتائی جا رہی ہیں...
جو بھی اصول آپ کو سمجھائے جا رہے ہیں وہ مارکیٹ پر 100% فٹ نہیں بیٹھتے، بلکہ مارکیٹ کبھی کبھی آپ کی توقعات کے بالکل برعکس بھی چلنے لگتی ہے۔ مثال کے طور پر، پچھلی ویڈیوز میں ہم نے الفن کینڈل اسٹک پیٹرن کی بات کی تھی۔ الفن میں بتایا تھا کہ یہ کینڈل اسٹک ایسی ہوتی ہے جو اپنی پچھلی کینڈل اسٹک کو پورے طور پر ہڑپ کر لیتی ہے یا پوری طرح کنزیوم کر لیتی ہے۔ اور اس کے اوپر آپ دیکھ سکتے ہیں کہ یہاں یہ کینڈل اسٹک اوپن ہوئی ہے۔
یہاں اگلی کینڈل اسٹک کلوز ہوئی ہے، جو یہاں اوپن ہوئی تھی، اور کلوز اتنی نیچے آئی کہ اس کی اوپن اور کلوز دونوں اس کے نیچے آگئے۔ ہم نے آپ کو بتایا تھا کہ اگر اگلی ایلفن بار، پچھلی ایلفن بار کو ایلفن کرنے کے بعد، اس کا کلوز نیچے ہو تو نیچے کی طرف ٹرینڈ متوقع ہوتا ہے، لیکن دیکھیں یہاں کہیں بھی نیچے کی طرف ٹرینڈ کا کوئی اشارہ نہیں ہے۔ نیچے کی طرف کوئی ٹرینڈ نہیں آ رہا، بلکہ اوپر کی طرف ٹرینڈ ہی جا رہا ہے۔ یہ ایک زبردست مثال ہے آپ کو سمجھانے کے لیے کہ صرف ان پیٹرنز اور کینڈل اسٹک کے ان پیٹرنز پر جو ہم...
بات ہو رہی ہے کہ ان پر تباہ نہیں کیا جائے گا، انہیں دیکھ کر ٹریڈ نہیں کی جائے گی بلکہ اور دوسرے ٹولز بھی استعمال کیے جائیں گے جن پر ہم اگلی ویڈیوز میں بات کریں گے۔ اور اسی طرح ہم نے ڈوجی پیٹرنز پر بات کی تھی اور آپ کو بتایا تھا کہ اگر ڈوجی کہیں ایسی جگہ آ جائے جہاں اپ ٹرینڈ تھا تو اس اپ ٹرینڈ کے بعد فوراً ڈوجی کے آنے کی وجہ سے ڈاؤن ٹرینڈ شروع ہو جاتا ہے۔ لیکن یہاں بھی آپ کو کچھ ایسے مثالیں ملیں گی جہاں ڈاؤن ٹرینڈ شروع نہیں ہوا، جیسے مثال کے طور پر اگر آپ اس والی بار کو دیکھیں تو یہ ایک ڈوجی بار ہے جس میں۔۔۔
ہم نے اپنی پچھلی ویڈیو میں بات کی تھی اور یہ اپ ٹرینڈ جو آپ کو تھوڑا سا نظر آیا یا یہی والا اپ ٹرینڈ، یا اگر ہم اسے ڈوجی بار منتخب کر لیں، تو یہ جو اپ ٹرینڈ آپ کو چھوٹا سا نظر آ رہا ہے، اس کے بعد یہاں پر ڈاؤن ٹرینڈ آنا چاہیے تھا لیکن یہاں پر ڈاؤن ٹرینڈ نہیں آیا۔ تو پھر سے ان سب چیزوں کو دیکھنے اور سمجھنے کی وجہ یہ ہے کہ آپ اچھے طریقے سے ذہن میں رکھیں کہ کسی ایک انڈیکیٹر یا کسی ایک پیٹرن پر مکمل اعتماد نہیں کیا جاتا بلکہ مارکیٹ کو سارے سپورٹ لیولز، ریزسٹنس لیولز، ٹرینڈ لائنز کے ذریعے پوری طرح سے اینالائز کر کے ہی آپ کوئی ٹریڈ لیتے ہیں۔
دوستو، اس ویڈیو میں ہم بات کریں گے گریوسٹون ڈوجی کینڈلز کے بارے میں۔ گریوسٹون ڈوجی اصل میں ایک بیریش ورژن ہوتا ہے، جس طرح ہم نے پچھلی ویڈیو میں ڈریگن فلائی ڈوجی کی بات کی تھی۔ تو گریوسٹون ڈوجی، ڈریگن فلائی ڈوجی کا بیریش ورژن ہوتا ہے، اور ڈریگن فلائی ڈوجی ایک طرح کا بولش ورژن ہوتا ہے، یعنی اس سے بولش سگنل نکلتا ہے۔ اور جس گریوسٹون ڈوجی کی ہم ابھی بات کر رہے ہیں اس ویڈیو میں، اس سے بیریش سگنل ملتا ہے۔ یہ کینڈل ایسی ہوتی ہے کہ اس میں اوپن، لو اور کلوز پرائس تقریباً ایک جیسے ہوتے ہیں، اور اس کی ایک لمبی ٹیل اوپر کی طرف ہوتی ہے۔
دیکھیں جیسا کہ آپ یہاں دیکھ رہے ہیں، یہ پیٹرن کچھ یوں ہے کہ اوپن بھی یہی ہے، لو بھی یہی ہے اور کلوز بھی یہی ہے، اور ایک لمبی ٹیل بنی ہے ہائی کے لیے۔ اگر آپ اوپر دیکھیں تو اوپن، ہائی اور کلوز تینوں کی قیمت تقریباً ایک جیسی ہے۔ میں آپ کو دکھاتا ہوں، اوپن 6190 ہے، ہائی 6202 ہے اور کلوز 6190 ہے۔ اوپن 6190، لو 6190 اور کلوز بھی 6190 ہے، جبکہ ہائی 6202 ہے۔ اگر آپ اس کو سمجھنا چاہتے ہیں تو یوں سمجھیں کہ مارکیٹ یہاں سے اوپن ہوئی۔ جیسا کہ پچھلی ویڈیو میں بتایا تھا، ڈریگن فلائی دوجی کو ڈھونڈنا بہت مشکل ہوتا ہے۔
وہ درخت اور یہ بہت کم ملتے ہیں، خاص طور پر زیادہ عرصے کی کینڈل میں۔ جس طرح ڈی کی کینڈل میں تلاش کرنا مشکل تھا، ویسے ہی ایک گھنٹے کی کینڈل میں بھی تلاش کرنا مشکل تھا۔ اس لیے تلاش کے بعد یہ پانچ منٹ کی کینڈلز میں ایک مثال ملی آپ لوگوں کو سمجھانے کے لیے۔ تو اس میں ہوتا یہ ہے کہ جیسے ہی مارکیٹ اوپن ہوتی ہے، سمجھ لو کہ خریدار مارکیٹ کو دھکیلنا شروع کر دیتے ہیں، قیمت کو اوپر لے جانے لگتے ہیں۔ دھکیلتے دھکیلتے اسے اوپر لے آتے ہیں، لیکن آخر میں جو بیچنے والے ہوتے ہیں یا جو فروخت کرنے والے ہوتے ہیں، وہ خریداروں پر قابو پانا شروع کر دیتے ہیں۔
کیا اور پرائس کو گراتے گئے، مزید گراتے گئے، گراتے گئے، واپسی لاک یہاں پر کلوز کیا۔ عام طور پر گریو سٹون ڈوزی ایک ایسی کینڈل ہوتی ہے کہ اگر یہ اپ ٹرینڈ کے بعد نکلے تو اس کے بعد بیری سگنل ہوتا ہے، یعنی مارکیٹ کو نیچے جانا ہوتا ہے۔ لیکن اس مثال میں آپ دیکھ رہے ہیں کہ اگلی مارکیٹ نیچے نہیں جا رہی بلکہ ابھی جا رہی ہے۔ تو اس سے ہمیں یہ سیکھنے کو ملتا ہے کہ جتنے بھی کینڈل اسٹک کے پیٹرن ہوتے ہیں، جو کچھ بھی ہمیں اشارے دے رہے ہوتے ہیں، صرف انہی پر اعتبار کرکے ہم کوئی ٹریڈ نہیں کر سکتے، بلکہ مزید ٹولز اور مزید...
کسی پکی ٹریڈ کرنے کے لیے اینالیسس ضروری ہوتا ہے، لیکن یہاں اس کی کوئی واضح مثال دستیاب نہیں ہے جس کی بنیاد پر میں آپ کو کہہ سکوں کہ اس کے بعد بیئرش ٹرینڈ آئے گا۔ زیادہ سے زیادہ اسے ایک مثال کے طور پر لیا جا سکتا ہے، مگر یہ پورے طور پر مثال نہیں بنتی۔ "گریو اسٹون" کا عربی میں مطلب ہوتا ہے قبر کا پتھر۔ اگر آپ گھر میں کسی قبر کے پتھر کو دیکھیں تو نیچے ایک بڑی سی سلپ لگی ہوتی ہے اور اس کے اوپر پتھر رکھا جاتا ہے۔ یہ مسئلہ صرف اس لیے بتاتے ہیں تاکہ آپ کو چیزوں کا پیٹرن سمجھ آئے۔
یاد رکھیں یہ پیٹرن کبر کے قطبے کا ہے اور آپ اسے اس طرح بھی یاد رکھ سکتے ہیں کہ اس کے بعد بیئرش سگنل آتا ہے یعنی مارکیٹ بیئرش ہوتی ہے، جو کہ اس صورتحال میں ابھی نہیں آ رہی۔ اس گریو اسٹون ڈوزی پیٹرن میں جو اوپر کا لیول ہوتا ہے وہ ایک قسم کا ریزسٹنس لیول بھی بنتا ہے۔ اگر یہ پہلے کسی پچھلے ریزسٹنس لیول سے کنفرم ہو رہا ہو تو پھر ہمیں ایک مزید اشارہ ملتا ہے، ایک زیادہ مضبوط سگنل ملتا ہے کہ اب اس کے بعد بیئر مارکیٹ بیئرش ہوگی۔
آئیے بات کرتے ہیں آرڈر بک کے بارے میں اور اسے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہاں بائیں طرف آپ دیکھ سکتے ہیں کہ لکھا ہے "آرڈر بک"۔ جو نمبر ریڈ کلر میں ہیں وہ سیلرز یعنی بیچنے والے ہیں، اور جو نمبر نیچے گرین کلر میں ہیں وہ بائرز یعنی خریدنے والے ہیں۔ اب جو 1.55 آپ دیکھ رہے ہیں، وہ اس کوئین کا لسٹڈ پرائس ہے، اور بائر اسے 1.58 پر خریدنا چاہ رہا ہے، اور 136 کوئینز خریدنا چاہتا ہے۔ اگر ہم 136 کو یا پھر 379 جو دائیں طرف چنجز کے طور پر دکھائے جا رہے ہیں، کو لے کر بائیں طرف والے پرائس سے ضرب دیں تو ہمارے پاس...
ٹوٹل ڈالر کی رقم آ جائے گی، اسی طرح سیلر کی لائن میں آپ دیکھیں گے کہ کوئی 1.56 پرائس سے اوپر بیچنا چاہ رہا ہے۔ اس کے پاس سیگمنٹ 5 50020 یا کچھ موجود ہے۔ ان کو اس پرائس سے ملٹیپلائی کریں گے تو ٹوٹل ڈالر کی رقم ہمارے پاس آ جائے گی، جس پر کوئی ابھی سیل کرنا چاہ رہا ہے۔ یہاں ہم سیل میں دیکھیں گے کہ جو ہائی ایسٹ بڈر ہوتا ہے، یعنی خریدنے والا، اس کی پرائس سب سے اوپر ہوتی ہے۔ 4 ایڈ والے کی پرائس نیچے ہے، 8.56 والے کی پرائس اوپر ہے، اسی طرح 84 والے کی پرائس سب سے نیچے ہے اور یہاں حساب کتاب تھوڑا سا...
یہاں الٹ ہوتا ہے، مطلب یہ کہ جو سیلر سب سے کم پرائس پر سیل کرنے آ رہا ہوتا ہے اس کی آرڈر کو سب سے زیادہ ترجیح دی جاتی ہے۔ مطلب یہ کہ جو سب سے کم پرائس پر بیچنے والا ہوتا ہے اور جو سب سے زیادہ پرائس پر خریدنے والا ہوتا ہے، ان دونوں کے آرڈرز میچ ہو جاتے ہیں اور ختم ہو جاتے ہیں۔ ایک بات آپ نے نوٹ کی ہوگی کہ کچھ آرڈرز کے پاس ایک گرین بار بنی ہوتی ہے، یہ بڑی بڑی Y کی طرح ہوتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اس آرڈر پر بہت زیادہ پریشر ہے۔ آپ دیکھیں گے یہاں 19000 ڈالر کے کوائن کا...
کوئی 20 ڈالر کے کوائن خرید رہا ہے تو اس حساب سے یہ فل بھی ہوا ہے، لیکن اگر آپ دیکھیں کہ 100 ڈالر کے کوائن کوئی خرید رہا ہے تو وہاں گرین فل ہوا ہوگا، جو آپ کو نظر نہیں آ رہا۔ صورتحال یہاں بھی یہی ہے۔ تو یہ ہماری آرڈر بک ہے، اب ہم ڈیپتھ دیکھتے ہیں۔ اچھا، اگر آپ چارٹ دیکھنا چاہتے ہیں تو گیئر کے آئیکن پر کلک کریں گے، اسٹائل میں جائیں گے، اور میں نے یہاں چارٹ منتخب کر رکھا ہے، کلاسک۔ اگر آپ کو یہ والا چارٹ نظر نہیں آ رہا تو کلاسک کو منتخب کریں، اور یہ والا چارٹ آپ کے پاس آ جائے گا۔
یہ ہمارا گراف ہے اور گراف کے رائٹ ہینڈ سائڈ پر یہاں ڈیپتھ ہے۔ اب آپ ڈیپتھ کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ یہاں دیکھیں اگر میں کرسر کو اس پر موو کرتا ہوں تو رائٹ ہینڈ سائڈ پر موو ہو رہا ہے اور لیفٹ ہینڈ سائڈ پر بھی موو ہو رہا ہے۔ جو گرین رنگ آپ کو نظر آ رہا ہے، وہ بتا رہا ہے کہ بائرز کا پریشر کتنا ہے، اور جو یہاں ریڈ رنگ دکھ رہا ہے، وہ سیلرز کے پریشر کی نشاندہی کر رہا ہے۔ اب ہم کسی پرائس پوائنٹ پر اسے سلیکٹ کرتے ہیں، جیسے کہ آپ نیچے دیکھ رہے ہیں، یہاں 62 لکھا ہوا ہے، تو یہ 62 کر لیتے ہیں۔
16616 کی قیمت پر تقریباً 500 سے 555 کوائنز فروخت کے لیے تیار ہیں، لوگ خریدنے کے لیے بھی تیار ہیں۔ اس کے اوپر اور مجموعی طور پر کوائنز کا تقریباً 90 فیصد بن رہا ہے۔ اسی طرح ہم اپنے رائٹ ہینڈ سائڈ پر دیکھیں گے تو تقریباً 84 پر اوپر ریڈ کلر میں لکھا ہوا نظر آ رہا ہے، آپ کو 84 پر، اور نیچے قیمت ہے 2.9۔ یعنی جو بیچنے والے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ 2.92 کی قیمت پر ان کے کوائنز بیچے جائیں۔ اور ایسے بیچنے والے کوائنز کی تعداد تقریباً 900 ہے، جیسا کہ یہاں رائٹ ہینڈ سائڈ پر دیکھا جا سکتا ہے۔ سائڈ پر یہ جو بارز دکھائی دے رہی ہیں، آپ یہاں دیکھ سکتے ہیں۔ اب نیچے دیکھ رہے ہیں۔
یہاں پر پرائس دکھائی دے رہی ہے اور ہم رائٹ سائڈ پر کوانٹیٹی دیکھ رہے ہیں۔ اسے دوبارہ چیک کرتے ہیں۔ نیچے پرائس 3.15 ہے اور اس پر 9700 کے آرڈر بیچنے کے لیے تیار ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مارکیٹ میں اس وقت بیچنے والوں کا پریشر زیادہ ہے اور خریدنے والوں کا پریشر کم ہے۔
چلو جاؤیا سے ڈیپتھ مارکیٹ کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ ڈیپتھ چارٹ ہمارے پاس کھلا ہوا ہے اور میں نے اس کو بہت زیادہ زوم کیا ہے۔ تو بالکل یہاں سینٹر میں آپ دیکھ رہے ہیں کہ نیچے 1.52 ڈالرز کے اوپر، پرائس کے اوپر جو خریدنے والے ہیں ان کی تعداد آپ لیفٹ ہاتھ پر دیکھ رہے ہیں۔ یہاں پر دیکھ، یہاں اس سائیڈ پر جب میں کرسر یہاں لاؤں گا تو آپ دیکھیں، یہاں تو لیفٹ ہاتھ سائیڈ پر یعنی وائی ایکسس کے اوپر جو انفارمیشن ہمیں مل رہی ہے وہ یہ ہے کہ 51000 کوائنز سیل ہونے کے لیے پڑے ہوئے ہیں 1.52 کیریٹس کے اوپر۔ اسی طرح دوسری طرف ہم...
دیکھیں تو 1.53 کے ریٹ کے اوپر سیلرز کا ویو آ رہا ہے، یہ بائر کا ویو ہے جو گرین والا ہے، یہ بائر کا پریشر ہے، اور جو ریڈ والا ہے وہ سیلرز کا پریشر ہے۔ تو یہاں اگر آپ دیکھیں بیچ میں تو 1.53 روپے یا 1.53 کی قیمت کے اوپر تقریباً 19,500 لوگ سیل کرنے والے ہیں۔ اس کے لیے دیکھیں جب میں یہاں کلک کرتا ہوں تو آپ دائیں ہاتھ والی ایکسس پر 1.53 پر سیل کرنے والے تقریباً 19.5 ہزار لوگ ہیں۔ اس کا مطلب کیا ہے؟ مطلب یہ ہے کہ 1.52 پر بائرز کا پریشر بہت زیادہ ہے اور 1.53 کے اوپر سیلرز کھڑے ہیں، اس لیے آپ...
دیکھو مارکیٹ بالکل اسٹک ہو گئی ہے، یہاں دیکھو آرڈر بک بالکل حرکت نہیں کر رہی۔ 526 کے اوپر یا یہی پر اٹکی ہوئی ہے، کوئی آرڈر آگے نہیں بڑھ رہا، اور 1.28 کے اوپر کوئی سیلر کا آرڈر پورا نہیں ہو رہا۔ اگر ہم ویو کے چارٹ میں آئیں گے تو یہاں آپ دیکھ سکیں گے کہ یہ چیزیں کینڈل کے پیٹرن پر بھی نظر آ رہی ہیں۔
اگر آپ کا آرڈر پورا ہو گیا اور اس کے بعد مارکیٹ نیچے آ گئی تو کیا کرنا چاہیے؟ سب سے پہلے دیکھیں کہ یہاں ایک بائے آرڈر لگا ہوا ہے جو پورا بھی ہو چکا ہے۔ میں آپ کو چارٹ بڑا کر کے دکھاتا ہوں، یہاں یہ ایرو نظر آ رہا ہوگا، یہ بائے آرڈر ہے جو 24.27 کے اوپر لگا ہوا تھا۔ اور اگر ہم آگے مارکیٹ کو دیکھیں تو اس اسٹيج کے اوپر مارکیٹ کہیں بھی نہیں گئی۔ بائے کرنے کے فوراً بعد یہاں پر سیل آرڈر لگا ہوا ہے۔ لیکن اگر میں آپ کو مارکیٹ زوم آؤٹ کر کے دکھاؤں تو دائیں ہاتھ پر مارکیٹ...
کہیں بھی بائی آرڈر تک یہ نہیں ہوتا کہ اسے اوسط سے اوپر بیچ دیا جائے۔ یہاں بائی آرڈر تھا اور مارکیٹ ابھی پوری طرح نیچے تھی۔ ایسی صورت میں آپ کو سب سے پہلے یہ کرنا ہوتا ہے کہ آپ اپنے پورے رقم سے کسی بھی کوائن کو 100٪ نہیں خریدتے۔ آپ کو 20 یا 25 فیصد پر ہی مارکیٹ میں ہونا چاہیے کیونکہ جو آپ ایکسپیکٹ کر رہے ہوتے ہیں یا مارکیٹ کا رجحان جو ہوگا، وہ بُلش ہوگا، لیکن اگر وہ بُلش نہیں ہوتا اور بیئرش ہو جاتا ہے تو ایسی صورت میں آپ کیا کرتے ہیں کہ آپ چن کر مضبوط سپورٹ لائن بناتے ہیں اور اسی مضبوط سپورٹ لائن کے اوپر دوبارہ...
ایپل کے لیے بائے کرتے ہیں، آپ نے یہاں بائے کیا ہے، رائٹ ہینڈ پرائس آ رہا ہے، یہاں 23 پی کچھ ہے، اور آپ یہاں کھڑے ہیں۔ آپ یہاں کھڑے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ آگے جو بھی مارکیٹ ہے وہ ابھی آپ کے سامنے نہیں ہے۔ تو آپ یقیناً اس ٹائم لائن سے پیچھے دیکھیں گے اور یہ دیکھنے کی کوشش کریں گے کہ ہمارے لیے ایک مضبوط بائے پوائنٹ کہاں بن رہا ہے۔ اسے مزید چھوٹا کریں گے، اسی کینڈل کے اندر، اسی ٹائم فریم میں رہتے ہوئے کرنا ہے۔ یہ نہیں کرنا کہ اسے این ایچ میں کریں گے یا 4 ایچ میں کریں گے۔ اگر آپ 15 منٹ میں کام کر رہے ہیں تو 15 منٹ میں ہی کریں۔
آپ کو سپورٹ لائن چیک کرنی ہے، ہم یہاں دیکھتے ہیں کہ اس پوائنٹ پر سپورٹ بن رہی ہے یا نہیں۔ تو ہاں، اس لائن پر سپورٹ بن رہی ہے، یہاں سے مارکیٹ نے سپورٹ دی ہے اور مارکیٹ نے ریٹریس کیا ہے۔ اسی طرح اگر ہم پیچھے جائیں تو یہاں دیکھیں اس پوائنٹ پر سب سے پہلے میں آپ کو ایک ہوریزونٹل لائن لگا کے دکھاتا ہوں۔ ہوریزونٹل لائن ڈرا کرتا ہوں اور سارے ڈرائنگز ہم اوپن کرتے ہیں۔ تو یہاں دیکھیں، اس پوائنٹ پر مارکیٹ نے ریٹریس کیا ہے اور یہ سپورٹ لائن بن گئی ہے۔ اور یہی سپورٹ لائن اگر ہم پیچھے جائیں تو یہاں آپ دیکھ رہے ہیں کہ یہ...
یہ ایریا ریزسٹنس لائن بنی ہوئی ہے اور کئی بار بنی بھی ہے۔ اگر ایک بار نہیں بنی تو آپ دوسرا بائی پوائنٹ لگا سکتے ہیں، جو اس لائن کے اوپر لگایا جا سکتا ہے۔ رینج لائن نیچے سے دوسری جو آپ کو نظر آ رہی ہے۔ پہلا بائی آپ نے یہاں کیا تھا، دوسرا بائی آپ یہاں اوپر بھی لگا سکتے ہیں۔ اس کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ جہاں آپ نے انٹری پوائنٹ لیا تھا، یہ بائی کرنے کا انٹری پوائنٹ ہے۔ اگر ہم اسے زوم ان کریں اور پیچھے جائیں تو یہاں دکھائی دے رہا ہے کہ آپ نے انٹری لی تھی، جو ڈرائنگ میں بھی نظر آ رہا ہے۔ اس سے پہلے...
آپ دیکھ رہے ہیں کہ یہاں ایک بہت لمبی سبز موم بتی بنی ہوئی ہے۔ اس لمبی سبز موم بتی کے بالکل درمیان میں ایک بائی پوائنٹ بن سکتا ہے، ورنہ تیسرا بائی پوائنٹ بھی بن سکتا ہے۔ جہاں سے یہ سبز موم بتی شروع ہو رہی ہے، وہاں دیکھیں ایک ریزسٹنس لائن بنی ہوئی ہے کیونکہ یہاں سے یہ سبز موم بتی اوپر جا رہی ہے۔ اس پوائنٹ پر جب آپ نے بائی کیا، تو آپ کو یہ سوچنا چاہیے کہ اگر مارکیٹ بیئرش موڈ میں آ جائے تو آپ کو دوسرا بائی کہیں یہاں کرنا ہے اور تیسرا بائی بھی یہاں کہیں کرنا ہے۔
یہاں 20 پر یا 25 پر یہ خریدا گیا، 25 فیصد رقم سے یہ خریدا گیا، 25 فیصد رقم سے۔ یہاں بھی آپ نے بائے آرڈر لگا دیا۔ اب دیکھیں، یہاں آپ نے خریدا تو مارکیٹ نے اوپر سے ریٹریس کیا اور واپس اسی لائن پر آیا جہاں سے ہمارا گرین یعنی بُلش ورژن شروع ہو رہا تھا، بالکل اس کے شروع ہونے والے پوائنٹ پر۔ یہاں مارکیٹ نے ریٹریس کیا یعنی یہی اس کی سپورٹ لائن بن گئی، یہاں دوبارہ سے سپورٹ لائن بن گئی۔ اور آگے دیکھیں تو یہ تیسری بار بھی مارکیٹ کو چھو چکا ہے، اور نیچے سے ہو کے دوبارہ اوپر آیا۔ دوبارہ دیکھتے ہیں، تو یہاں سے آ کے مارکیٹ...
میں نے اسے کئی بار ری ٹیسٹ کیا ہے اسی لائن کو، اور اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ جب آپ یہاں ایک بار بائی کر چکے ہوتے ہیں، پھر دوبارہ کہیں اس پوائنٹ پر بائی کرتے ہیں، تیسری بار بھی اس پوائنٹ پر بائی کریں گے تو آپ کا جو ڈالر کوسٹ ایوریج ہے وہ کم ہو جائے گی۔ یعنی مثال کے طور پر، آپ نے صفر کی قیمت پر کوائن خریدا تھا، پھر 75 پر خریدا تھا، پھر 5 پر خریدا تھا، تو تینوں کی اوسط قیمت جو بنے گی وہ ساڑھے ہوگی۔ اب ساڑھے والے کوائن کو آپ یہاں کہیں 7.6 پر بیچ دیتے ہیں، حالانکہ آپ نے پہلا کوائن یہاں خریدا تھا، لیکن آپ اسے...
یہاں پر بیچ سکتے ہیں، اب دیکھیں کیا یہ جو آپ کو گرین لائن نظر آ رہی ہے، کیا مارکیٹ یہاں تک آ چکی ہے؟ تین بار خریدنے کے بعد۔ تو دیکھیں، یہاں پہ پہلا آرڈر تھا، دوسرا آرڈر آپ نے یہاں پر خریدا، تیسرا آرڈر آپ نے یہاں لگایا تھا۔ تو یہاں سے یقیناً یہ خریداری ہو چکی ہوگی۔ تو اس گرین لائن کے اوپر یا میڈ کے اندر کہیں نہ کہیں آپ کا سارا آرڈر دوبارہ بیچ دیا جائے گا اور آپ مارکیٹ سے کلیئر ہو جائیں گے، یعنی مارکیٹ سے باہر نکل جائیں گے۔ یہ مارکیٹ کئی بار یہاں آ چکی ہے، دوسری بار اور تیسری بار۔
چوتھی بار آگے جائیں گے دیکھیں گے تو یہ پانچویں بار یہاں پر اور یہ چھٹی بار ملٹی پل ٹا یہاں پر آپ آرڈر سیل ہو سکتا تھا۔
آپ سپورٹ پر بائے آرڈر لگا دیتے ہیں، پھر لگا کر سو جاتے ہیں یا کہیں کام سے نکل جاتے ہیں۔ تین چار گھنٹے بعد، چونکہ بائے آرڈر کے فوراً بعد آٹومیشن کے ذریعے سیل آرڈر لگانے کا کوئی آپشن نہیں ہوتا، اس لیے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ آپ کی غیر موجودگی میں بائے آرڈر پورا ہو جاتا ہے لیکن سیل آرڈر کریئیٹ نہیں ہوتا۔ ایسی کچھ صورتحال ہوتی ہے، جیسے مثال کے طور پر آپ یہاں دیکھیں، دس کو یہ بائے آرڈر Y پر 119 کے اوپر کریئیٹ ہوا ہے۔ اب فرض کریں آپ یہاں تھے اور سپورٹ پر بائے آرڈر لگا رہے تھے۔
یہاں پر لگایا تھا 119 پر اور اس ٹائم لائن کے اوپر آپ اپنا لیپ ٹاپ یا کمپیوٹر چھوڑ کے چلے گئے، یا تو سو گئے یا کسی کام سے نکل گئے۔ اور بائی آرڈر آپ کی غیر موجودگی میں فلفل ہو گیا۔ اب ہوتا یہ ہے کہ جب وہ فلفل ہو جاتا ہے تو آٹومیشن کے ساتھ آپ کے پاس سیل کرنے کا کوئی طریقہ نہیں ہوتا۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جہاں آپ کو سیل کرنا تھا، مثلاً یہاں پر % یا % یا %، وہاں آپ سیل نہیں کر پاتے کیونکہ آپ غیر حاضر تھے۔ یہ سارا وقت آپ کی نیند میں گزر گیا اور پتہ چلا کہ آپ یہاں کھڑے تھے۔
جب آپ یہاں کھڑے ہوتے ہیں تو آپ نقصان تو نہیں بیچیں گے، ورنہ آپ مارکیٹ کے ریورس ہونے کا انتظار کرتے ہیں۔ پھر پتہ چلتا ہے کہ آپ نے دوسری غلطی یہ کی کہ آپ نے ایک اور بائی آرڈر لگا دیا یہاں، اور بالکل وہی غلطی دہرائی جو پہلے کی تھی۔ یعنی آپ نے بائی آرڈر لگا دیا۔ مثال کے طور پر، آپ یہاں تھے اور کہا کہ دوسری سپورٹ میری یہاں ہے، تو میں یہاں بائی آرڈر لگا دیتا ہوں۔ لیکن پھر بھی بائی آرڈر لگانے کے بعد آٹومیشن کے ساتھ سیل آرڈر لگانے کا کوئی آپشن موجود نہیں ہے۔ یہ اس وقت ہوتا ہے جب آپ موجود نہیں ہوتے یا آپ کا سونے کا وقت ہوتا ہے۔
دوران یہ بائے آرڈر پورا ہو جاتا ہے، اس کے بعد مارکیٹ دیکھیں یہاں سے اوپر بھی گئی ہے، لیکن یہ آرڈر پورا نہیں ہو سکا۔ اور جب آپ سونے کے بعد یا اپنے کام سے واپس آتے ہیں اور مارکیٹ گِر گئی ہو، تو اس میں یہ کرنا چاہیے کہ آپ اس سپورٹ کے اوپر بائے آرڈر نہ لگائیں بلکہ یہاں ایک نوٹیفکیشن سیٹ کروا لیں۔ اس سپورٹ پر جیسے ہی مارکیٹ پہنچے، نوٹیفکیشن آ جائے۔ اس طرح آپ کے موبائل پر نوٹیفکیشن آئے گا اور آپ کو پتہ چل جائے گا جب آپ جاگیں یا مصروف ہوں۔
واپس آئیں گے تو یہاں آپ کو خریدنا تھا، آپ مارکیٹ کو دوبارہ چیک کریں گے۔ مثال کے طور پر، جب آپ واپس آئے تو مارکیٹ یہاں رک گئی تھی، آپ مارکیٹ کو دوبارہ دیکھیں گے کہ کیا اب خریدنے کا وقت ہے یا نہیں۔ یہ ایک بہتر موقع بھی ہو سکتا ہے۔ فرض کریں آپ اس وقت آئے جب مارکیٹ کی پوزیشن یہ تھی کہ آپ کو خریدنا تھا، لیکن پھر آپ کو پتہ چلا کہ مارکیٹ کی پوزیشن کچھ اور ہے تو آپ نے یہاں سے خرید لیا، تو یہ آپ کے لیے ایک موقع بن گیا۔ لیکن اگر مارکیٹ واپس اوپر چلی گئی تو آپ یہ موقع گنوا دیں گے، اور یہ موقع آپ کے حق میں بہتر ہوتا۔
کیونکہ یہاں آپ کو بائی نہیں کرنا تھا، اس لیے بہتر ہے کہ جب آپ موجود نہ ہوں تو بائی لگانے کی بجائے صرف نوٹیفیکیشن بنا لیں۔
اوکے، آپ کس طرح اسٹریٹیجی کو ٹیسٹ کر سکتے ہیں فاریکس میں، اسٹاکس میں، کوموڈیٹی میں اور کرپٹو کرنسی میں؟ اسٹریٹیجی ٹیسٹنگ یا بیک ٹیسٹنگ کا اصل مقصد یہ ہوتا ہے کہ کوئی بھی اسٹریٹیجی اگر آپ اپلائی کرنے جا رہے ہیں تو پہلے اسے چیک کر لیں پچھلے ڈیٹا پر، تقریباً 200 سے 2000 ٹریڈز پر کہ آپ کی اسٹریٹیجی کتنی ویلیڈ رہے گی یا وہ کتنے منٹ کی کینڈل پر ویلیڈ رہے گی۔ جیسے ہم ابھی مارکیٹ دیکھ رہے ہیں، یہ ہے ایتھیریم یو ایس ڈی ٹی کی مارکیٹ، یہ میں گراف کھینچ کے لاتا ہوں۔
مارکیٹ میں اگر میں کوئی اسٹریٹیجی اپلائی کرنے جا رہا ہوں یا جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں کہ ایک منٹ کا کینڈل یہاں اوپن ہوا تو بات یہ ہوتی ہے کہ اسٹریٹیجی ویسی ہی رہتی ہے اور کینڈل بھی ایک منٹ کا ہوتا ہے تو اسٹریٹیجی کام کر جاتی ہے، لیکن اگر آپ وہی اسٹریٹیجی لے کر چار گھنٹے کے کینڈل پر اپلائی کریں گے تو اسٹریٹیجی کام نہیں کرے گی۔ ابھی ہم نے پائن ایڈیٹر استعمال کیا ہے، جو کہ اس کی پائن اسکرپٹ کی زبان ہے اور ٹریڈنگ ویو پر چلتی ہے، اس کے لیے ہم نے ایک کوڈ لکھا ہے، اور اس اسٹریٹیجی کو ہم چیک کر رہے ہیں۔ یہاں پر آپ کو نیٹ پروفٹ ٹوٹل دکھا رہا ہے۔
کلوز ٹریڈز، پرسنٹ منافع بخش، منافع کا فیکٹر اور یہ ساری اصطلاحات—ان پر ہم بات کریں گے کہ ان کا مطلب کیا ہوتا ہے اور ہم ان چیزوں کو کیسے چیک کر سکتے ہیں۔ ساتھ ہی یہ بھی دیکھیں گے کہ کہاں تبدیلی لا کر مختلف برسوں، مختلف کینڈلز اور مختلف کینڈل اسٹائلز پر ہم یہ چیزیں چیک کر سکتے ہیں۔ اوپر جو آپ تین اوسطیں دیکھ رہے ہیں، اس میں پہلی جو ہے وہ سائین کلر کی ہے، یعنی سائین، میجینٹا، ییلو—یہ سائین کلر کا ایکسپونینشل موونگ ایوریج ہے، 12 کا جیسا کہ یہاں دکھایا گیا ہے۔ دوسرا ہمارا ایکسپونینشل موونگ ایوریج ہے 26 کا، یہ ایکسپونینشل...
ہم نے موونگ ایوریج 55 کی ایک سٹریٹیجی بنائی ہے۔ سٹریٹیجی کوڈ کرنے کا طریقہ ہم کسی اور ویڈیو میں بات کریں گے۔ ابھی یہ سمجھتے ہیں کہ نیٹ پروفٹ کا کیا مطلب ہوتا ہے۔ نیٹ پروفٹ کا مطلب یہ ہے کہ گراؤنڈ پروفٹ جو 227 ٹرانزیکشنز میں ہوا ہے، اس میں سے اگر ہم گراؤنڈ پروفٹ میں سے نقصانات نکال دیں تو جو بچتا ہے وہ نیٹ پروفٹ ہوتا ہے۔ ہم اس کو پرفارمنس سمری میں چیک کر سکتے ہیں۔ جب آپ یہاں آتے ہیں تو دیکھ سکتے ہیں کہ یہ نیٹ پروفٹ ہے اور یہ گراؤنڈ پروفٹ ہے۔ اگر ہم اس گراؤنڈ پروفٹ میں سے گراؤنڈ لاس نکالیں تو ہمارے پاس نیٹ پروفٹ بچتا ہے۔ دوسرا ہمارا...
ایک انڈیکیٹر ہوتا ہے جسے ہم پروفٹ فیکٹر کہتے ہیں۔ یہ پروفٹ فیکٹر بتاتا ہے کہ ہمارے کل گراس پروفٹ پر کتنا گراس پروفٹ آ رہا ہے۔ اگر ہم اسے اپنے گراس لاس سے تقسیم کریں تو ہمیں پتہ چل جائے گا کہ کتنے نقصان کے بدلے ہمیں کتنا فیصد فائدہ ہوا ہے۔ یا پھر اس پروفٹ فیکٹر کو ہم اپنی ابتدائی سرمایہ کاری سے ضرب دے کر جان سکتے ہیں کہ ہمارا منافع کتنا ہوگا۔ تو یہ ایک اہم انڈیکیٹر یا میٹرک ہے کسی بھی حکمت عملی کو پرکھنے کے لیے، اور اسے پروفٹ فیکٹر کہتے ہیں۔ تیسری چیز جو ہماری...
جو چیز بہت اہم ہے وہ ہمارا پرسنٹ پروفائل ہے، اس کا بھی مثبت ہونا ضروری ہے۔ جو گراف آپ نیچے دیکھ رہے ہیں، اس میں آپ بائے اینڈ ہولڈ ایکویٹی کا گراف دیکھ رہے ہیں۔ یہ گراف صرف اتنا دکھا رہا ہے کہ اگر مثال کے طور پر آپ یہ سارے ٹریڈز نہ کرتے، یہ اسٹریٹیجی نہ اپناتے، بلکہ جو بھی کموڈیٹی، کرپٹو یا کرنسی آپ کے پاس ہے، اسے ہولڈ کر کے رکھتے، اتنے پیریئڈز کے لیے جتنے پیریئڈز کا آپ گراف دیکھ رہے ہیں۔ تو یہاں سے اس کی ویلیو کم یا زیادہ ہوتی ہوئی اس اینڈ تک پہنچتی ہے، یعنی یہ اصل میں ایتھیریم ہے۔
USDT کی مارکیٹ میں اتنے پیریڈز کے بعد ہماری ایتھیریئم USDT کی مارکیٹ نیچے آ جاتی ہے، یہ ہماری ایکویٹی دکھا رہا ہے کہ یہ نیچے سے اوپر جا رہی ہے۔ اس کا سیدھا مطلب ہے کہ جو ہم نے سٹریٹیجی اپلائی کی ہے، وہ ہمارے لیے منافع بخش ہے، جو کہ یہاں نیٹ پروفٹ کے فیکٹر میں بھی نظر آ رہا ہے۔ یہاں ہم پر فارمنس سمری میں جائیں گے، اور اس میں مزید کچھ چیزیں ہیں۔ ہم اسے ہٹا کر سائیڈ پر رکھتے ہیں، اور یہاں آپ دیکھ رہے ہیں پروفٹ فیکٹر پر ہم نے بات کی ہے اور نیٹ پروفٹ پر بھی بات کی ہے۔ کمیشن پیڈ یہ جاننا ضروری ہوتا ہے کہ کس ایکسچینج...
آپ کس چیز پر کام کر رہے ہیں اور اس ایکسچینج پر کتنا کمیشن ٹیکس یا بائے یا سیل کا لگ رہا ہے۔ تو ایپل کی بات کریں اگر فون کی، تو اس کا زیادہ سے زیادہ کمیشن جو بنتا ہے وہ بائے کا 25 ہوتا ہے، اور سیل کا بھی زیادہ سے زیادہ 25۔ تو یہ کل ملا کر بنتا ہے۔ ابھی ہم نے کمیشن یہاں پر اپلائی نہیں کیا تھا، اس کو ہم اپلائی کر سکتے ہیں۔ اس گئیر پر کلک کریں، یہاں پر یہ فارمٹ ہے، نیچے کمیشن دیا ہوا ہے۔ اگر ہم یہاں 5 لکھ دیں تو یہ 5 فیصد ہر ٹرانزیکشن پر لے گا اور اس پوری اسٹریٹیجی پر اپلائی ہو جائے گا۔
یہاں پر گیم بدل سکتا ہے، جو ہمیں ابھی $360 کا فائدہ دکھا رہا ہے وہ جا کر $1000 کا نقصان بھی بن سکتا ہے۔ کل کلوزڈ ٹریڈز اس دوران 227 ہوئی ہیں۔ یہ ہمیشہ ایک جیسی نہیں رہتی۔ مثال کے طور پر، اگر میں یہاں آ کر 9 منٹ کی کینڈل کو بدل کر 4 گھنٹے کی کینڈل بنا دوں تو پتہ چلے گا کہ کلوزڈ ٹریڈز جو 227 تھیں وہ ہو سکتی ہیں 300 یا کم بھی ہو سکتی ہیں، اور صرف چار یا پانچ پر رک جائیں۔ تو جب ہم کینڈل یا اس کا وقت بدلتے ہیں تو اسی حساب سے ہماری ٹریڈز اور نمبر بھی بدل جاتے ہیں۔
ٹریڈز اور ان کا کمیشن اور آخر میں آنے والا مجموعی منافع یا مجموعی نقصان بالکل بدل جاتا ہے۔ جیتنے والی ٹریڈز کی تعداد نیچے دکھائی گئی ہے، جو کہ ایک میٹرک ہے۔ جیتنے والی ٹریڈز کی تعداد ہم جان سکتے ہیں کہ ہماری 76 ہے اور ہارنے والی ٹریڈز 151 ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اگر جیتنے والی ٹریڈز کم ہیں اور ہارنے والی زیادہ تو آخر میں آپ کو نقصان ہی ہوگا۔ کیونکہ ممکن ہے کہ جیتنے والی ٹریڈز زیادہ منافع بخش ہوں اور ہارنے والی کم۔
ہم یہاں کوڈنگ کر رہے تھے، ہماری ایم ای ہمیں لینا ہے، اور یہ ہمارا ای وائی پر کلوز ہے۔ کلوز کا ہم نے لیا، کلوز ہم نے لیا رات کو۔ اس کو ہم ویری ایبل میں رکھ دیتے ہیں، ای ٹو۔ یہاں پر ایک دوسرا ویری ایبل ہم لے لیتے ہیں، وہاں پر بھی ہم ای لیں گے، دوسرا والا۔ اسے ہم کلوز لیتے ہیں، اور وہ تھا ہمارا 26۔ اوپر جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں۔ اور ایک تیسرا ایس اے میں ہم لیں گے سی ویری ایبل میں، اسے رکھ دیتے ہیں۔ ایس ایم اے کریں گے کلوز پر، اور یہ ہم لیں گے 55 پر، جیسا کہ اوپر آپ دیکھ رہے ہیں۔ یہ جو آپ یہاں پی دیکھ رہے ہیں، یہ 12 ہے اور کلوز پر ہے، یہ 26 ہے کلوز پر ہے، یہ ایم اے 55 کلوز پر ہے۔
تو ہم نے یہاں تین ویری ایبل لے لیے، اس کے بعد ہم آئیں گے اور دیکھیں گے کہ اس کی کنڈیشن کیا ہونی چاہیے جس پر یہ کام کرے۔ تو ہم کہتے ہیں کہ جب ہماری اسٹریٹیجی میں بتا رہے ہیں کہ لانگ کی انٹری کب ہوگی، جب 12 ایم اے 26 اور 55 دونوں کو کراس اپ کرے۔ تو ہم یہاں آ کر کہتے ہیں کہ کراس اوور کا مطلب ہے کہ جب ایک لائن دوسری کو کراس اوور یعنی کراس اپ کرے تو کیا کیا جائے۔ کراس اوور کرنے لگے، کون کس کو کراس کر رہا ہے، یعنی یہ 12 جب کراس اوور کرے۔
یہ جو یہاں پر ہو رہا ہے، جیسے اے ۵۵ کے ساتھ، اور ساتھ ہی یہ اے، بی سے بڑا بھی ہو، مطلب کہ یہ سیاں والی لائن جب میجینٹا سے بھی بڑی ہو جائے اور اس کو کراس اوور بھی کرنے لگے، تو یہ لانگ کی وائی پر کریئٹ کر دے۔ تو ہم کہیں گے کہ اے اور سی کراس اوور کرنے لگے وائی پر۔ یہاں ہم ایسے اے کو نہیں لکھ سکتے کیونکہ وائی تین ویری ایبلز قبول نہیں کرتا۔ ہم بتا رہے ہیں کہ اے والی لائن سی کو کراس اوور کرے اور اے بی سے بڑی ہو۔ تو ہم نے کہا کہ چلو اسے ایک ویری ایبل میں رکھتے ہیں اور اس کا نام رکھتے ہیں ایل وائی۔ ایل ہے، ٹھیک ہے؟ اسی طرح ہم ایک اور ویری ایبل لیتے ہیں اور اس کا نام رکھا۔
ہم اس کو کہتے ہیں کراس انڈر رائٹ، کراس انڈر۔ اب ہم کہتے ہیں کہ کراس انڈر کر رہا ہے کون؟ اے کو، سی کو، رائٹ؟ اور اے، بی سے کم ہونا چاہیے۔ یہ صورتحال کہاں پر آ رہی ہے؟ یہ صورتحال یہاں پر ہے۔ دیکھو، یہ اے والی لائن ہے، سن والی ہے، یہ کراس ڈاؤن کر رہی ہے۔ یہاں اس پوائنٹ پر سی کو، یعنی ییلो لائن کو، اور یہ بی سے چھوٹی ہو گئی ہے۔ یہ دیکھو بی ہے، اور یہ بی سے کم بھی ہے۔ تو یہاں ہمارا شارٹ اسکرپٹ بن جائے گا، یعنی یہ ویرئیبل یہاں پر ایکٹیویٹ ہو جائے گا۔ اس کے بعد ہم نیچے آ کر مزید کوڈ کریں گے۔
تو ہم اسے یہاں بتائیں گے کہ اسٹریٹیجی میں انٹری کیسے کرنی ہے، اس کا کی ورڈ ہمارے پاس "اسٹریٹیجی ڈاٹ انٹری" ہوتا ہے۔ جتنے بھی کی ورڈز آپ اسٹریٹیجی میں ٹائپ کرتے ہیں، ان کے آخر میں "اسٹریٹیجی" لکھنا ضروری ہوتا ہے، جیسے یہاں لکھا ہوا ہے۔ کیونکہ یہ اسٹڈی کا ٹیمپلیٹ نہیں ہے، بلکہ اسٹریٹیجی کا ٹیمپلیٹ ہے۔ جو بھی ہم کوڈ کر رہے ہیں، وہ "اسٹریٹیجی ڈاٹ انٹری" ہے۔ اور یہاں ہم اس کا نام دے دیں گے۔ فرض کریں کہ اس اسٹریٹیجی انٹری کا نام ہم رکھیں گے "بائے رائٹ"۔ مطلب یہ ہے کہ اس اسٹریٹیجی میں ہمیں لانگ پوزیشن لینی ہے۔
اسٹریٹ لمبائی رائٹ، پھر ہم اسے کلوز کرتے ہیں۔ معذرت یار، کب اپلائی ہوگی؟ ہاں، اپلائی ہوگی اور ہم اسے بتائیں گے جیسا کہ پچھلے سٹیج میں آپ نے دیکھا تھا کہ ای اور بی کا لوپ تھا۔ یہاں آپ ن کو نہیں دیکھیں گے اور نہ ل کو، تو دوبارہ دیکھیں کہ کیا ہو رہا ہے۔ یہ بتا رہا ہے کہ سٹیج لمبائی کرنی ہے، یعنی کچھ کرنا ہے۔ کب کرنا ہے؟ ہم کنڈیشن بتا رہے ہیں کہ جب لمبائی کا ویریبل سیٹسفائی ہو جائے۔ یہ لمبائی کا ویریبل کب سیٹسفائی ہوگا؟ جب کراس اوور کرے گا اے سی کو۔ اور اے کیا ہے؟ اے ایک موونگ ایوریج ہے اور بی بھی ایک موونگ ایوریج ہے۔ ہم یہاں صرف اتنا بتا رہے ہیں۔
جب بھی ای سی کو کراس اوور کرے تو وہ لانگ ہو جائے اور جب لانگ ہو جائے تو اسٹریٹیجی انٹر ہو جائے یعنی جو بھی چیز آپ وہاں سے خریدنا چاہ رہے ہیں وہ خرید لی جائے چاہے وہ کموڈیٹی ہو، فاریکس ہو یا کچھ بھی ہو۔ دوسرا ہم اس کا شارٹ اسٹریٹیجی رکھیں گے۔ شارٹ چیک کرنے کے لیے اسٹریٹیجی ڈاٹ شارٹ لکھیں گے اور اس کا نام رکھ دیں گے سیل۔ یہاں کنفیوژ مت ہوں کہ شارٹ اور سیل میں فرق ہوتا ہے، لیکن ہم اسے آسان بنانے کے لیے شارٹ کو سیل کہہ رہے ہیں اور اس کا نام ہم یوں رکھیں گے۔
اسٹیجی ڈاٹ شارٹ پھر ہم کمائیں گے، کب اس کو اپلائی کرنا ہے؟ جب یہ شارٹ والی ہماری ایکویشن پوری ہو جائے جو ہم نے کراس انڈر میں اوپر دی ہے۔ لکھیں گے شارٹ، اوکے؟ تو یہاں پر اسٹریٹیجی ڈاٹ شارٹ بھی ہمارا کمپلیٹ ہو گیا، پورا ہو گیا۔ اسٹریٹیجی ڈاٹ شارٹ ریڈ اس لیے دکھا رہا ہے کہ یار ڈاٹ شارٹ نہیں ہے۔ ہم اس کو اسٹریٹیجی میں انٹری کر رہے ہیں اور انٹری ہم شارٹ کے ذریعے بھی کر سکتے ہیں یا لانگ کے ذریعے بھی ہو سکتی ہے، اس لیے یہاں پر ہماری صرف ڈاٹ انٹری رہے گی۔ اوکے؟ یہ ہمارا اسکرپٹ ہے اور اس کو ہم ابھی سیو کر لیتے ہیں کسی نئے نام سے۔ مثال کے طور پر، ہم اس کو کہتے ہیں...
اوکے جی، ہم نے سیو کر لیا ہے اور اب اسے اپلائی کر کے دیکھتے ہیں۔ ہم یہاں پر کریں گے ڈیٹو چارٹ۔ ٹائم ہے، لائن 12 میں ایرر آ رہا ہے۔ چلو دیکھتے ہیں یہاں کیا مسئلہ ہے۔ اسٹریٹیجی کی اسپیلنگ ٹھیک نہیں ہے اس لیے یہ و کیورڈ نہیں بن پا رہا۔ اسے دوبارہ اپلائی کرتے ہیں۔ ڈیٹو چارٹ کریں گے اور چیک کریں گے کہ یہ کام کر رہا ہے یا نہیں۔ زبردست، یہ کام شروع ہو گیا۔ ہم اوورویو پیج پر دوبارہ آئیں گے، اوکے۔ پائن ایڈیٹر کے اوپر آئیں گے۔ یہ جو ریڈ اسٹیرک آپ یہاں دیکھ رہے ہیں، یہ ریڈ اسٹیرک ہمیں بتا رہا ہے کہ ہماری اسٹریٹیجی سیو ہو گئی ہے۔
یا نہیں ہوئی ہم سیو کریں گے تو یہ ریڈ والا اسٹیرک ہمارا ہٹ جانا چاہیے جیسے کہ ہٹ گیا دوبارہ اسٹریٹیجی ٹیسٹر پر آئیں گے اور یہ سب کیا چیزیں ہیں نیٹ پروفٹ کا کیا مطلب ہے ٹوٹل کلوز ریٹ پرسنٹ پروفائل پروفٹ فیکٹر اس کے اوپر ہم پچھلی اپنی آخری ویڈیو میں بات کر چکے ہیں یہ سیمپل میں آپ کو دوبارہ بتا دوں کہ اصل میں یہ بتا رہا ہے کہ اس اسٹریٹیجی کو اپلائی کرنے سے آپ کا سی $38 کا منافع ہو سکتا ہے رائٹ اور اس کا پروفٹ فیکٹر ہے یعنی کہ آپ کی ٹوٹل جتنی بھی اس پر ٹریڈز ہوں گی ان میں زیادہ تر آپ کی
اگر منافع اور نقصان دونوں 50-50 ہوتے تو ہمارا منافع فیکٹر ایک ہوتا، اور اگر زیادہ تر منافع میں ہو اور نقصان کم ہو تو یہ 1.1، 1.2 کی حد تک بڑھتا جائے گا۔ آپ پرفارمنس سمری کو یہاں دوبارہ دیکھ سکتے ہیں، اور یہی گراف بھی دیکھ سکتے ہیں۔ یہ نیٹ منافع دکھا رہا ہے، یہ گراس منافع ہے، اور یہ گراس نقصان۔ اس کی تفصیل ہم اپنی پرانی ویڈیو میں کر چکے ہیں، اس لیے یہاں اس پر بات کرنے کا موقع نہیں ہے۔ اور یہ حکمت عملی 29 جنوری سے لاگو ہونا شروع ہوئی۔
دوستو، جب ہم ایک بار چیک کر لیتے ہیں کہ ہماری اسٹریٹیجی صحیح طریقے سے کام کر رہی ہے یا نہیں، اور ہم نے اسے دیکھ بھی لیا، چیک بھی کر لیا، اور اپنی اسٹریٹیجی کو سیو بھی کر لیا، تو سوال یہ ہے کہ اس کو آٹومیٹ کیسے کرنا ہے؟ اس کے لیے ہمیں کیسے الرٹ بنانے ہیں اور کون سی کوڈنگ کرنی پڑے گی؟ اس اسٹریٹیجی کے ٹیمپلیٹ کو اسٹڈی کے ٹیمپلیٹ بنانے کے لیے ہم کیا کریں گے؟ ہم اس اسٹریٹیجی کے ٹیمپلیٹ کو اسٹڈی کے ٹیمپلیٹ بنا لیں گے۔ اس کے لیے کیا کرنا پڑے گا؟ آپ کیا کریں گے؟ آپ آئیں گے اور اسے کاپی کریں گے تاکہ...
ہمیں بار بار کام نہ کرنا پڑے، ایک کے بعد ایک نیا ٹیمپلیٹ لیتے ہیں۔ ٹھیک ہے؟ آپ یہاں دیکھ سکتے ہیں، اوپر انہوں نے یہ پلاٹ بھی کر کے دکھایا ہے کیونکہ ہم نے یہاں اوورلے کو ٹرو کیا تھا۔ اوورلے کا مطلب ہے کہ یہ اسٹریٹیجی نے اوورلے کر کے دکھایا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا اور فالس ہوتا تو یہ اسٹریٹیجی نیچے الگ سے پلاٹ کر کے دکھاتی۔ یہاں اس نے کہا ہے کہ بائے، یہاں بائے کرے گا، یہاں سیل کرے گا، اوپر لے آ کے پھر یہ دوبارہ نیچے آ کے یہاں بائے کرے گی اسٹریٹیجی، اور ابھی سیل کا آپشن نہیں ہے۔ اگر آپ پچھلے کچھ گراف مزید دیکھنا چاہیں...
چاہے آپ کو نظر آئے کہ یہ بائے سیل کہاں کر رہا ہے، یہاں بائے کر رہا ہے، یہاں سیل کر رہا ہے، رائٹ؟ یہاں بائے کر رہا ہے، یہاں سیل کر رہا ہے، اوکے؟ تو اسٹڈی ہماری پرفیکٹ کام کر رہی ہے، رائٹ؟ اب اس کو بناتے ہیں ایک اسٹڈی کا ٹیمپلیٹ۔ ہم یہاں نیو پر کلک کریں گے۔ پھر یہ پائن اسکرپٹ کا ورژن ہے۔ بلینک انڈیکیٹر اسکرپٹ لیں گے۔ پہلے ہم نے بلینک سٹریٹیجی اسکرپٹ لیا تھا۔ انڈیکیٹر اسکرپٹ پر کلک کریں گے۔ اب یہ اسٹڈی کا ٹیمپلیٹ آ گیا۔ اب دیکھیں اسٹڈی کا ٹیمپلیٹ بالکل چھوٹا سا ہوتا ہے، اس میں ہم چیزوں کو پلاٹ کرتے ہیں، رائٹ؟ لے لیتے ہیں۔
سٹڈی کا جو بھی نام ہے، ہم بس ایپل کا نام لے کر سٹریٹیجی میں لگا دیں گے، کاپی پیسٹ سیدھا سا، کیونکہ ہمیں کوئی تبدیلی نہیں کرنی۔ اوکے، سٹریٹیجی کو ہم کہیں گے کہ ہمیں کرنا ہے سٹڈی اور پلاٹ کیا کرتا ہے۔ تو ابھی اسے چھوڑ دیتے ہیں، اور یہ ایم وغیرہ ہمیں چاہیے ہوگا۔ سٹریٹیجی والی چیز ہم ڈیلیٹ کر دیتے ہیں، چلیں ڈیلیٹ کرتے ہیں۔ اوکے، یہ تینوں ہمیں ابھی بھی چاہیے، پہلے بھی چاہیے تھے، یہ کنڈیشن بھی ہمیں پہلے چاہیے تھی، ابھی بھی چاہیے۔ ہم سی کریں گے، ہم پلاٹ کر دیں گے جو بھی سٹریٹیجی ہم نے یہاں بنائی ہے۔ اوکے، اسے ڈیلیٹ کرنے کے لیے آخری لائن کو بھی۔
کنفیوژن سے بچنے کے لیے ہم یہ کرتے ہیں کہ کون سا ڈیٹا پلٹ کرنا ہے، کون سا نہیں۔ یہاں جو لانگ کی کنڈیشن آ رہی ہے، اسے ہم پلٹ کر دکھاتے ہیں اور اس کا نام رکھتے ہیں بائی، مثلاً۔ ٹھیک ہے، ہم اسے کہتے ہیں ڈیلیٹ اور چلیں شروع کرتے ہیں۔ اوکے، کچھ ایرر آرہے ہیں، ہم لائن نمبر ۱۲ پر ایرر ٹھیک کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ٹھیک ہے، اب ہم اسے پلٹ کریں گے، لکھیں گے پلٹ، اور ہم کسی بھی کالم کو پلٹ سکتے ہیں جیسے ایم کو، لیکن یہاں ہم اس ویریبل کو پلٹ کریں گے جس کا نام ہے "ل"۔ اور یہاں ہم اسے دو چارٹ میں دکھائیں گے۔ دیکھیں، یہ پلٹ لانگ کا چارٹ ہے۔
تو بھائی، اس کو ہم بہتر طریقے سے ویری ایبل کے ذریعے کریں گے۔ اس پلاٹ کو ہم نام بھی دیتے ہیں یا فارمولا کنفیوز نہ ہو، اس لیے بای، اوکے۔ کلر ٹو لائک گرین اور لائن آراونڈ۔ پھر اسی کو ہم کاپی کر کے ایک اور پلاٹ بنا دیتے ہیں سگنل کے لیے۔ تو یہ پلاٹ ہے، ہم گراف کو چارٹ پر پلیٹ کریں گے کہ کون سا شارٹ ہے، یعنی اس ویری ایبل کو اور اس ویری ایبل کی کنڈیشن بھی ہم نے لکھ دی۔ جو کچھ بھی ہم نے دیا اسے اپلوڈ کر دو۔ اس کا نام رکھ دو سیل ف ایپل، اس کا کلر کر دو ریڈ۔ اب اس کو چارٹ کرتے ہیں، پرانا والا ہٹا دیتے ہیں اور نیا والا لے آتے ہیں۔ اس میں ہم دیکھتے ہیں۔
یہاں جو "بائے" لکھا ہوا دکھ رہا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ نے یہاں "بائے" لکھا تھا۔ اگر آپ یہاں "بائے" نہ لکھتے تو یہ سیدھے "لانگ" لکھ دیتا یا یہاں "پلاٹ" لکھ دیتا، اور آپ کو پتہ نہ چلتا کہ یہ لائن کون سی ہے۔ آپ یہاں سے لائن کو بڑھا بھی سکتے ہیں، دیکھیں، لائن بڑھ رہی ہے۔ بائے کے سگنلز ہیں، سب ٹھیک ہے۔ آپ یہاں رنگ وغیرہ بھی بدل سکتے ہیں، اس کی پلاس لائن کی پراپرٹیز وغیرہ تبدیل کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، میں کہوں کہ جو بائے کے پلاٹس ہیں وہ سب ہرے رنگ کے ہوں اور جو سیل کے...
پلاٹس ہیں، سگنلز ہیں، وہ سب ریڈ ہیں۔ اب دیکھیں اس پوائنٹ پر یہ بائے کرے گا یا سیل۔ اب یہاں اسٹریٹیجی میں ہمیں یہ نہیں بتا رہا کہ کتنے ٹریڈز کرے گا اور کتنے پروفٹیبل ہوں گے وغیرہ۔ وہ سب ہم نے اسٹریٹیجی ٹیمپلیٹ میں دیکھ لیا ہے۔ ہمارے پاس اسٹڈی آ گئی ہے کہ یہاں بائے کرے گا یا سیل۔ اب اس کے الرٹس کیسے جنریٹ کریں؟ اس کے لیے ہم اس آئیکن پر رائٹ کلک کریں گے اور یہاں بائے یا سیل کا الرٹ منتخب کریں گے۔ اوکے کریں گے۔ ہم نے کہا تھا کہ ہم YT میں کام کر رہے ہیں، یا ہم N منٹ کی فریش اسٹریٹیجی وغیرہ۔
کام ٹھیک چل رہا ہے جب یہ بائے کا سگنل بنے جو ہم نے یہاں بنایا ہوا ہے، ٹھیک ہے؟ تو کیا کریں جب یہ بائے کا سگنل کراس کرنے لگے، یعنی کراسنگ اپ کرنے لگے، تو اس کی ویلیو دیکھیں۔ یہ بائے کا سگنل یہاں آ رہا ہے، یہاں سے دیکھیں یہ بائے کا سگنل ہے، جو صفر سے شروع ہو کے ون تک جا رہا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ کینڈل زیادہ سے زیادہ ون تک جا سکتا ہے۔ اگر ہم اپنی پرائس لائن کو یہاں بھی رکھ دیں سگنل کے الرٹ کو جنریٹ کرنے کے لیے تو یہ کام کر جائے گا، صحیح ہے؟ تو اگر ہم اس کو کریں، مثلاً اپنا اوکے، اور ہم اسے کہیں کہ ون پر بار ی۔
سگنل جنریٹ کریں، آئی ایم ساری، اور وہاں پر اپلائی نہیں ہوا 0.9۔ اوکے، یہ دیکھیں، آپ Y پر آ گیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر بار، چاہے وہ نو منٹ کی کینڈل ہو یا ایک دن کی کینڈل، جب بھی باہر بائے کا سگنل جنریٹ کرے گا تو ہماری کمانڈ خودبخود ایکٹیویٹ ہو جائے گی۔ ہم اسے ون بار کلک کریں گے، رائٹ؟ کب یہ ایکسپائر ہونا چاہیے، اس اسکرپٹ کا وقت کیا ہونا چاہیے، یہ پاپ اپ شو کرے یا نہ کرے، اور جب بھی الرٹ جنریٹ ہو تو آواز بجے یا نہ بجے، ہمیں ای میل آئے یا نہ آئے، یہ سب سیٹنگز یہاں ہم کر سکتے ہیں۔ اگلی ویڈیوز میں ہم ممکنہ طور پر مزید بات کریں گے۔
بات یہ ہے کہ یہاں اسکرپٹنگ کے بارے میں بات کریں، کہ API کو کس طریقے سے پولینیس، بائننس، بٹ ٹکس وغیرہ پر کنیکٹ کرتے ہیں، اور اس API کو ہم اپنے موبائل کے کسی سافٹ ویئر سے کیسے کنیکٹ کر سکتے ہیں۔ پھر اس کے ذریعے ہم آٹو ٹریڈنگ کیسے شروع کر سکتے ہیں، سِگنلز کیسے لگا سکتے ہیں، تاکہ ہمیں بار بار ایکسچینج کھول کے اپنی ٹریڈز چیک نہ کرنی پڑیں۔ اور جو سرور ہوتا ہے، جسے کہتے ہیں، اس پر ہم کس طرح کنفیگر کر سکتے ہیں۔
اس کے ایکسٹینشن وغیرہ کو چھوڑیں، میرا خیال ہے کہ یہ کافی لمبی ویڈیو بن گئی ہے۔ اس میں ہم نے تھوڑی سی پروگرامنگ اور سٹریٹیجی کو سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ آپ اس پر پریکٹس کریں، امید ہے کہ آپ کو اس سے فائن اسکرپٹنگ کی زبان میں بہت کچھ سیکھنے کو ملے گا۔ شکریہ۔
ہم بات کریں گے کہ گن بوٹ کو ایک VPS سے دوسرے VPS پر کیسے منتقل کیا جاتا ہے، خاص طور پر جب گن بوٹ چل رہا ہو۔ گن بوٹ کے بعد ہم اس کے کرپٹو سائٹ کی بھی بات کریں گے جو کہ ٹیلیگرام کا ایک بوٹ ہے۔ ساتھ ہی ہم کرپٹو کرنسی میں انویسٹمنٹ کرنے کا بھی طریقہ دیکھیں گے، جو خاص طور پر گن بوٹ کے لیے بنایا گیا ہے جس کا نام ہے کلرائز۔ آپ کلرائز ڈ کلَب پر اسے ایکسیس کر سکتے ہیں۔ تو ہم تین چیزوں پر بات کریں گے۔ سب سے پہلے یہ کہ جب آپ کا گن بوٹ کسی VPS پر چل رہا ہو تو اسے دوسرے VPS پر کیسے منتقل کریں۔ سب سے آسان اور بہترین طریقہ یہ ہے کہ آپ...
کریپٹو سائٹ پر آئیں گے، یہاں آپ دیکھیں گے کہ جہاں کہیں بھی آپ کا گن بوٹ چل رہا ہے۔ بہتر یہ ہے کہ آپ اس کا پورا فولڈر کاپی کر لیں اپنے پاس، یا رائٹ کلک کرکے اس کی زپ فائل بنا لیں۔ زپ بنانے کے بعد اسے کہیں ڈراپ باکس وغیرہ پر اپلوڈ کریں۔ پھر نئے وی پی ایس پر جائیں، وہاں سے اسے ڈاؤن لوڈ کرکے یہاں ایکسٹریکٹ کر لیں۔ جو آپ ابھی گن بوٹ اسٹینڈرڈ دیکھ رہے ہیں، اسی طرح دوسرے وی پی ایس پر بھی ٹرانسفر کیا گیا ہے۔ وہاں اسے زپ کیا گیا، ڈیسک ٹاپ سے کاپی کرنے کے بعد ڈراپ باکس پر اپلوڈ کیا گیا اور یہاں ڈراپ باکس سے لیا گیا۔
ڈاؤن لوڈ کرنے کے بعد یہاں پر ہی اسے رن کر دیا گیا۔ جب آپ اسے رن کرتے ہیں تو یہ گنتھ ڈاٹ ایکزی کی ایپلیکیشن ہے جو ونڈوز کی ہے۔ آپ اس پر ڈبل کلک کریں گے تو اس کا کنسول باکس چلنا شروع ہو جائے گا۔ آپ دیکھ رہے ہیں کہ یہ ہر 15 سے 20 سیکنڈ میں ٹریک کر رہا ہے۔ اس نے ایک اور ٹریڈ کرنے کی کوشش کی ہے۔ جب یہ چلنا شروع ہو جائے گا تو آپ لوکل ہوسٹ 5000 پر آئیں گے۔ جیسا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں، یہ لوکل ہوسٹ 5000 پر ہے۔ تو یہ ہمارا کرپٹو کرنسی کا جو بٹ ہے، گن بوٹ جسے کہتے ہیں، وہ یہاں پر شو کر رہا ہے۔ تو یہ ایک بہت آسان طریقہ ہے۔
اب ایک وی پی ایس سے دوسرے وی پی ایس پر گن بوٹ کو ٹرانسفر کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اس کے ساتھ جو ایک ٹیلیگرام بوٹ منسلک ہوتی ہے، جو کرپٹو سائٹ سے کنیکٹ ہوتی ہے اور جس کے ذریعے آپ گن بوٹ کو ٹیلیگرام سے کنٹرول کر سکتے ہیں، اسے کیسے کرنا ہے، ہم آپ کو بتاتے ہیں۔ سب سے پہلے آپ کو ٹیلیگرام پر جانا ہوگا۔ اگر آپ پاکستان سے ہیں اور ٹیلیگرام خاص طور پر آپ کے پاس نہیں چل رہا، تو آپ کو وی پی این استعمال کرنا پڑے گا۔ وی پی ایس اور وی پی این دو الگ چیزیں ہیں، وی پی ایس کا مطلب ہوتا ہے سرور۔
سرور، ورچوئل پرائیویٹ سرور کی طرح ہے جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں یہ جو بورڈ ہم چلا رہے ہیں یہ ایک ورچوئل پرائیویٹ سرور پر ہے، اور اس ورچوئل پرائیویٹ سرور پر ہم نے ونڈوز انسٹال کی ہوئی ہے۔ اور ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک وہ ہوتا ہے جو مختلف کمپیوٹرز کا مجموعہ ہوتا ہے، جس کی نوڈز کے ذریعے آپ اپنا انٹرنیٹ ٹریفک روٹ کرتے ہیں۔ تو یہاں ہم کروم کا ایک ایکسٹینشن دیکھ رہے ہیں جس کا نام ہے براؤزر۔ اس براؤزر پر آپ کلک کریں، ابھی میں نے یو ایس کا وی پی این آن کیا ہوا ہے، اس کے ذریعے میرا ٹیلیگرام، میرا ٹیلیگرام یہاں۔۔۔
پاکستان میں چل رہا ہے ورنہ آپ ٹیلیگرام استعمال نہیں کر پائیں گے۔ تو آپ ٹیلیگرام پر جائیں گے اور وہاں ایک بوٹ ہے جسے کہتے ہیں گنتھ ڈاٹ گنتھ انڈر اسکور بوٹ۔ میرے پاس یہ ہے، تو میں اس پر ڈائریکٹلی جاﺅں گا۔ وہاں جا کر آپ 'سوری جی یو این ٹی ایچ وائی' پر کلک کریں گے اور یہاں آپ کو 'گیٹ ایجنٹ' کا بٹن نظر آئے گا۔ اس 'گیٹ ایجنٹ' کے بٹن پر آپ کلک کریں گے، جیسے میں نے کلک کیا ہوا ہے۔ اوپر دیکھ رہے ہیں، میں نے کلک کیا تھا، تو گنتھ انڈر اسکور بوٹ کی طرف سے یہ میسج آیا۔ پورے انسٹرکشن اگر آپ پڑھنا چاہیں تو انسٹرکشن کا پی ڈی ایف جا کر پڑھ سکتے ہیں۔
ورنہ یہ تین چیزیں بہت اہم ہیں، اس میں ایجنٹ انڈر کانگ ڈاٹ کنفیشن فائل ہے۔ اگر آپ ایڈوانس لیول کے یوزر نہیں ہیں تو یہاں جانے کی ضرورت نہیں ہے، صرف ان دو کو دیکھیں۔ یہ کرپٹو سائٹ ایجنٹ ہے، آپ اسے اپنے وی پی ایس پر ڈاؤنلوڈ کریں گے اور وہیں انسٹال کر لیں گے، ڈبل کلک کرکے۔ جب آپ اسے ڈاؤنلوڈ کرکے انسٹال کریں گے تو انسٹال کرنے کا طریقہ بالکل عام سا ہوتا ہے، کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے۔ یہ دیکھیں، یہ کرپٹو سائٹ ایجنٹ انسٹال پیکیج ہے، اسے آپ ڈبل...
کلک کرنے کے بعد جب انسٹال کریں گے تو یہ چل جائے گا۔ جب یہ انسٹال ہو جائے گا تو اس کے بعد آپ ونڈوز میں آئیں گے۔ ونڈوز میں آنے کے بعد اس کی ایپلیکیشن میں جائیں گے۔ ایپلیکیشن میں جانے کے بعد آپ دیکھیں گے کہ کرپٹ سائٹ ایجنٹ یہاں پر ہے، اسے آپ آن کر لیں گے۔ جب آپ اسے آن کریں گے تو یہاں اس کا کنسول چلنا شروع ہو جائے گا، جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں۔ پھر اس کنسول کو آپ لوکل ہوسٹ کالن 9000 کی پورٹ پر ایکسیس کر سکیں گے۔ گن بوٹ آپ 5000 کی پورٹ پر ایکسیس کر رہے تھے اور کرپٹو سائٹ آپ 9900 کی پورٹ پر ایکسیس کریں گے۔ تو یہاں پر جو کچھ بھی...
سیٹنگز وغیرہ یہاں دکھائی دے رہی ہیں، لیکن آپ کو کچھ بھی نظر نہیں آئے گا کیونکہ یہ ابھی بلینک ہوگا۔ ہم نے اسے کنفرم کر رکھا ہے۔ تو یہ ساری سیٹنگز آپ کے پاس کہاں سے آئیں گی؟ ساری سیٹنگز آپ کے پرانے ورچوئل پرائیویٹ سرور سے آئیں گی۔ وہاں سے آپ اپنا ٹیلیگرام کا بوٹ ٹوکن یہاں لے کر پیسٹ کر دیں۔ اور جو گن بوٹ کی ڈائریکٹری ہے، ہم نے ابھی گن بوٹ کو ڈیسک ٹاپ پر گن بوٹ اسٹینڈرڈ کے اندر ونڈوز کے ایک فولڈر میں رکھا ہوا ہے، جو ہم نے آپ کو پہلے دکھا چکے ہیں۔ تو ہم اس کا پورا پاتھ یہاں دے دیں گے۔
ایکٹیویشن کے لیے دوبارہ آپ کو جانا پڑے گا یہی گنتھ انڈر سکور بوٹ جو کہ ٹیلیگرام کا بوٹ ہے، اس میں یہ ایکٹیویشن کی آپ ڈاؤن لوڈ کریں گے۔ اگر آپ اسے ڈائریکٹلی ایکسیس کرنا چاہتے ہیں تو آپ ورچوئل پرائیویٹ سرور پر بھی اس ٹیلیگرام کو ایکسیس کر سکتے ہیں۔ ویب telegram.com پر یہ کیلکیولیٹ پروفٹس کو آن رکھیں، اور اگر آپ اپنی بیس کرنسی میں بی ٹی سی یا یو ایس ڈی ٹی استعمال کرنا چاہتے ہیں، دونوں صورتوں میں آپ اسے بی ٹی سی ہی رکھیں گے۔ پھر نیچے آ کر یہاں پر اپنا ایکسچینج کا فی ریٹ دے دیں کیونکہ میں ہوں...
ابھی میں بائننس کو ایکسچینج کے طور پر استعمال کر رہا ہوں اور بی این بی کو بیس کوائن کے طور پر، تو میری فیس 0.75٪ ہے۔ اگر آپ بٹ فائنکس یا فونیکس استعمال کر رہے ہیں تو آپ یہاں اس کے مطابق فیس ایڈ کر دیں گے۔ کرپٹو سائٹ آپ کی مدد کرے گی کہ آپ کے منافع یا نقصان کا حساب کتاب ہو جائے۔ جیسے آپ دیکھ رہے ہیں، یہ کام شروع ہو گیا ہے اور آپ اسے کنسول میں جا کر بھی چیک کر سکتے ہیں کہ یہ صحیح چل رہا ہے۔ اب تیسری چیز جس پر ہم بات کریں گے وہ ہے کلرائز، جو کہ انویسٹمنٹ یا کرپٹو کرنسی کے پورٹ فولیو کے لیے ہے۔
ٹریک کرنے کے لیے آپ جائیں گے کلرائز ڈاٹ کلب پر اور کلرائز کو ڈاؤن لوڈ کریں گے۔ ڈاؤن لوڈ کرنے کے بعد آپ اسے انسٹال کریں گے، جو عام انسٹال کرنے کا طریقہ ہوتا ہے۔ انسٹالیشن کے بعد آپ اسے بند کریں گے۔ پھر انسٹالیشن کے بعد آپ ڈاکیومنٹس میں جائیں گے، کلرائز کی سیٹنگز میں جو فائل ہے اسے کاپی کرنا ہے۔ جب آپ انسٹال کر لیں گے تو اسے آپ سیدھا چلا سکتے ہیں۔ کلرائز کو انسٹال کرنے کے بعد ونڈوز میں جائیں گے اور جس طرح آپ نے کپٹ سائٹ ایجنٹ کھولا تھا، اسی طرح یہاں بھی کریں گے۔
کلرائز نظر آنے لگے گا، آپ کلرائز کو آن کر دیں گے تو کلرائز یہاں پر آپ کو مل جائے گا۔ ہم اسے آن کرکے دکھاتے ہیں، ونڈوز پر کلرائز پر رائٹ کلک کریں گے تاکہ دوبارہ سے چلنا شروع ہو جائے۔ جیسے ہی یہ چلنا شروع ہوگا، یہ آپ کی کرپٹو کرنسی کی جو انویسٹمنٹ وغیرہ ہے وہاں پر شو کرنا شروع کر دے گا۔ اگر آپ پرانی وی پی ایس سے نئی وی پی ایس پر کنورٹ کر رہے ہیں تو یقینی بنائیں کہ آپ اس کی ڈاکیومنٹس میں کلرائز کا ایک فولڈر ہوگا، اس کے اندر settings.json کی فائل ہے، اسے پرانی وی پی ایس سے کاپی کر لیں۔ میں آپ کو دکھاتا ہوں کہاں۔
یہاں پر آپ ڈاؤن لوڈز میں جائیں گے اور ڈاکیومنٹس میں، وہاں آپ کو "کلرائز" کا ایک فولڈر ملے گا۔ اس کے اندر ڈبل کلک کریں، اس میں "سیٹنگز" اور "ڈی جےژن" والی فائل ہوگی۔ تو پی سی پر ڈاکیومنٹس میں "کلرائز" فولڈر میں "سیٹنگز" اور "ڈی جےژن" والی فائل کو پرانے سرور سے کاپی کر کے نئے سرور پر پیسٹ کر لیں۔ اس کے بعد آپ کا "کلرائز" انویسٹمنٹ ٹرک چلنا شروع ہو جائے گا۔ امید ہے یہ ویڈیو آپ کی مدد کرے گا اپنے کرپٹو کرنسی بوٹ، گن بوٹ کو منظم کرنے میں، اور وی پی ایس، گن بوٹ، کرپٹو سائٹ اور کلرائز کی نئی وی پی ایس پر انسٹالیشن کو سمجھنے میں۔
پہلی ویڈیو میں ہم نے بات کی تھی اور کمپیریزن کیا تھا N کے ایڈز S2 کے ایک VPS کا ور Mac کے VPS سے۔ ایمیزون 2 پر مہینے کا خرچ جو آپ ابھی اپنے سامنے EPS میں چلتے ہوئے دیکھ رہے ہیں، وہ $0 پر مہینے کا خرچ آ رہا ہے۔ دیکھنے کے لیے بہت شکریہ۔
This course covers multiple candlestick patterns that are required to be understood in order to trade in the market. People psychology and market psychology is discussed here multiple times. Engulfing, doji, gravestone doji, dragonfly doji will be discussed that can be mixed with other tools and indicators like moving averages, RSI, and MACD etc.